بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 15/08/2026 |
دارالافتاء
گوہ کا پانی کی ٹینکی یا حوض میں گر کرزندہ نکل جا نے سے اس پا نی کا حکم
سوال
مجھے ایک مسئلہ پر وضاحت مطلوب ہے وہ مسئلہ یہ ہے کہ گوہ اگر پانی کی ٹینکی یا حوض میں گر جائے اور زندہ نکل جائے تو کیا اس سے ٹینکی یا حوض کا پانی نجس شمار ہو گا یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ گوہ حرام ہے اور حرام جانور جب نجس العین نہ ہو تو وہ اگر پانی میں گر کر پانی کو منہ لگائے بغیرزندہ نکل جائے تو اس سے پانی نجس نہیں ہوتا، البتہ اگر پانی کو منہ لگایا ہو اور اس کا سور (جھوٹا) نجس ہو تو اس کی وجہ سے پانی نجس ہو جاتا ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر گوہ پانی کی ٹینکی یا حوض میں گرا ہو اور اس کا منہ پانی میں لگا ہو تو پانی نجس ہو گا لیکن وہ اگر پانی میں گر کر پانی کو منہ لگائے بغیرزندہ نکل جائے تو اس سے پانی نجس نہیں ہوگا ۔
قال الله تبارك وتعالى :﴿وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ﴾ (الأعراف، الأية: 157)
والضب من الخبائث…ولأن الضب من جملة المسوخ والمسوخ محرمة كالدب والقرد والفيل فيما قيل .(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ، كتاب الذبائح والصيود ، باب المأكول وغير المأكول من الحيوانات ۔ ج:5 ، ص:35 )
وإن أدخل فاه فيه فمعتبر بسؤره فإن كان سؤره طاهرا فالماء طاهر وإن كان نجسا فنجس فينزح كله، وإن كان مشكوكا فمشكوك فينزح جميعه، وإن كان مكروها فمكروه فيستحب نزحها، وإن كان نجس العين كالخنزير فإنه يتنجس الماء وإن لم يدخل فاه والصحيح من سباع الوحش والطير لا يتنجس الماء إذا أخرج حيا ولم يدخل فاه في الصحيح هكذا في محيط السرخسي. (الفتاوى الهندية ، كتاب الطهارة ، الباب الثالث في المياه ، الفصل الأول فيما يجوز به التوضؤ ، ج:1 ، ص:19 )
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں