بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قتل خطا میں قاتل کو پستول دینے والے کا حکم


سوال

میرے ایک دوست کے بھائی کی شادی تھی ،جس میں میرے اس دوست نےمیری دی ہوئی پستول سے ہوائی فائرنگ کی ،لیکن اس ہوائی فائرنگ کی وجہ سے ایک آدمی کو گولی لگی اور وہ فوت ہو گیا جس کی وجہ سے قاتل  پر قتلِ خطا کا کفارہ اور دیت وغیرہ لازم ہوا ،تو کیا اس قتل میں میرا دیا ہوا پستول استعمال ہونے کی وجہ سے کیا میں بھی گناہ گارہوں گا یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کے جب  کسی فعل میں مباشر(براہ راست کام کرنے والا) اور مسبب(اس کام کے ہونے میں سبب بننے والا) دونوں جمع ہوجائیں ،تو اس  فعل کی نسبت مباشر کی طرف کی جائے گی نہ کہ مسبب کی طرف، یعنی اس فعل سے جو تاوان ہو جائے،وہ  براہ راست  کام کرنے والے پر ہوگا، سبب بننے والے پر کچھ لازم نہ ہوگا۔

صورت مسئولہ میں جس کے گولی چلانے سےسے قتل ہوا ہے، قتل کا گناہ وغیرہ اسی پرلازم ہوگا،پستول دینے والے پر کوئی گناہ وغیرہ نہیں، البتہ اس سبب بننے پردل سے ندامت اورتوبہ واستغفارکرنامؤمن کی خوبی ہے۔

 

إذا اجتمع المباشر والمتسبب، يضاف الحكم إلى المباشر. (شرح المجلة لسليم رستم باز، المادة:90، ص:59)


فتویٰ نمبر : 6447/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں