بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

علماء اور صلحاء کے تبرکات کو اپنی پگڑی میں رکھنا


سوال

کیا کسی عالم دین یا بزرگ اور ولی کی پگڑی کےتھوڑے سے کپڑے کواپنی  پگڑی میں تبرک کے طور پر رکھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اولیاء اللہ اور صالحین کےآثار کو بطور تبرک اپنے پاس رکھنےکی شرعا گنجائش ہے، بخاری شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ "ایک عورت آپﷺ کے پاس ایک چادر لے آئی تو آپ ﷺ نے بنا بر ضرورت اس چادر کو لے لیا، جس کو ایک آدمی نے پسند کیا تو اس نے آپ ﷺ سے درخواست کی کہ یہ چادر مجھے عنایت فرمادیں،جس پر لوگوں نے اس کو ملامت کیا کہ آپ نے ایسا کرکے اچھا نہیں کیا کیونکہ آپﷺ کو اس کی ضرورت تھی اور پھر بھی تم نے اس کو آپ ﷺ سے مانگا حالانکہ تمہیں علم تھا کہ آپ ﷺ اس کو منع نہیں کریں گے، تو اس نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم ! میں نے اس چادر کو پہننے کے لیے نہیں مانگا ہے، بلکہ اس کو اس لیے مانگا تاکہ یہ میرا کفن ہو"، اس حدیث کے ذیل میں حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں کہ "اس حدیث سے آثارِ صالحین سے تبرک حاصل کرنا ثابت ہوتا ہے"۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق کسی عالم دین یا بزرگ اور ولی کی  پگڑی کے کپڑے کو اپنی پگڑی میں رکھنا جائز ہے ، البتہ یہ اعتقاد رکھنا جائز نہیں  کہ ان تبرکات کے طفیل ضرور بہ ضرور نجات ہوگی ۔

 

عن سهل رضي الله عنه:أن امرأة جاءت النبي صلى الله عليه وسلم ببردة منسوجة، فيها حاشيتها، أتدرون ما البردة؟ قالوا: الشملة، قال: نعم. قالت: نسجتها بيدي فجئت لأكسوكها، فأخذها النبي صلى الله عليه وسلم محتاجا إليها، فخرج إلينا وإنها إزاره، فحسنها فلان فقال: اكسينها، ما أحسنها، قال القوم: ما أحسنت، لبسها النبي صلى الله عليه وسلم محتاجا إليها، ثم سألته، وعلمت أنه لا يرد، قال: إني والله، ما سألته لألبسها، إنما سألته لتكون كفني، قال سهل: فكانت كفنه. (صحيح البخاري، ج:1، ص:429، رقم الحديث:1218)

قال الحافظ ابن حجر في شرح هذا الحديث: وفيه التبرك بآثار الصالحين... إلخ. (فتح الباري، ج:3، ص:144)

عن أم عطية قالت: «دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نغسل ابنته فقال: " ‌اغسلنها ‌ثلاثا أو خمسا... فإذا فرغتن فآذنني ". فلما فرغنا آذناه، فألقى إلينا حقوه، فقال: أشعرنها إياه... قال الطيبي: أي: اجعلن هذا الحقو تحت الأكفان بحيث يلاصق بشرتها، والمراد إيصال البركة إليها. (مرقاة المفاتيح شرح مشكوة المصابيح، ج:3، ص:1184، رقم الحديث:1634)


فتویٰ نمبر : 6444/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں