بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

چار ماہ اور دس دن کا حمل ضائع ہونے کے بعد آنے والا خون


سوال

اگرکسی عورت کا حمل چارہ ماہ دس دن بعد ضائع ہوجائے، تواس کے بعد اس عورت کو جو خون آتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ یہ خون نفاس کا ہے یا حیض کا؟

جواب

واضح رہے کہ جب کسی  حاملہ کا حمل ضائع ہوجائے، تو اگر بچے کے اعضاء میں سے کسی عضو مثلا: ہاتھ، پیر، انگلی وغیرہ کی بناوٹ ظاہر ہوچکی ہو، تو آنے والاخون نفاس کا شمارہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر چارماہ دس دن کا حمل ضائع ہوجائے، تو اس کے بعد آنے والا خون نفاس کا شمار کیا جائے گا،کیونکہ اتنی مدت میں اعضاء کی بناوٹ ظاہر ہوچکی ہوتی ہے۔

 

(وسقط) مثلث السين: أي مسقوط (‌ظهر ‌بعض ‌خلقه كيد أو رجل) أو أصبع أو ظفر أو شعر، ولا يستبين خلقه إلا بعد مائة وعشرين يوما (ولد) حكما (فتصير) المرأة (به نفساء والامة أم ولد ويحنث به) في تعليقه وتنقضي به العدة، فإن لم يظهر له شئ فليس بشئ، والمرئي حيض إن دام ثلاثا وتقدمه طهر تام وإلا استحاضة. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، ص:45)


فتویٰ نمبر : 10717/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں