بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سیلزمین کی تنخواہ سے سیکورٹی کے طور پر کچھ رقم کی کٹوتی کرنا


سوال

کمپنی سیلزمین کی ماہانہ تنخواہ میں سے ہرماہ دو ہزارروپے اپنے پاس سیکورٹی کے طور پررکھتی ہے۔ اورجب پچاس ہزارتک پہنچ جاتی ہے تو پھرمزید کوئی کٹوتی نہیں کی جاتی،یہ رقم کمپنی اپنی پاس اس لیےضمانت میں رکھتی ہے کہ جب سیلزمین کام چھوڑتا ہے تواگراس سے کسی قسم کی خیانت ہوئی ہویا اس پرکوئی جرمانہ واجب ہو، تووہ رقم اسی محفوظ  شدہ رقم سے وصول کی جاتی ہے۔ جورقم بچ جاتی ہے،وہ سیلزمین کو واپس کردی جاتی ہے شرعاً کمپنی کے لیے یہ اصول اپناناکیسا ہے؟

جواب

جاننا چاہیے کہ اگرکوئی کمپنی سیلزمین کے ساتھ اجرت کا معاملہ اس شرط  پرکرے کہ کمپنی اجرت میں سے کچھ رقم روک کراپنے پاس بطور ضمانت محفوظ رکھے گی اوراس پردونوں کی باہمی رضامندی ہوتوشرعاً اس کی گنجائش ہوگی۔

لہذا صورت مسؤلہ کےمطابق اگرکمپنی سیلزمین سے اس کی اجرت میں سے کچھ رقم روک کراپنے پاس ڈپازٹ کے طور پررکھتی ہواورمعاہدے کے اختتام پربقایاجات کاٹنے کے بعد باقی رقم حوالہ کرتی ہوتوشرعاًاس کی گنجائش ہے۔

 

ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتأجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي.( الفتاوى الهندية،ج:4،ص:413)


فتویٰ نمبر : 3926/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں