بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیت الخلاءکےاندردل میں تلاوت کرنا


سوال

ہمارے ساتھ بعض حفاظ  ساتھی جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے ہیں تووہاں آواز کےساتھ پڑھنے کی بجائےدل ہی دل میں تلاوت کرتے ہیں کیا ان  کا یہ عمل جائز ہے یا حرام ہے ؟

جواب

جاننا چاہیے کہ قرآن مجید کے تقدس اورعظمت کی خاطر نجس جگوں میں قرآن مجید کی تلاوت ناجائز ہےالبتہ تلاوت کی بجائے دل میں قرآن مجید کی تلاوت کا تصورجائزہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق کسی حافظ کا بیت الخلاء میں قرآن مجید کی تلاوت دل میں دہرانا محض تلاوت کا تصور ہے،حقیقی تلاوت نہیں کیونکہ حقیقی تلاوت زبان سے حروف کی ادائیگی کو کہتے ہیں اور یہاں زبان سے حروف کی ادائیگی نہیں ہوتی اس لیےاس کی گنجائش پائی جاتی ہے۔

 

يكره أن يقرأ القرآن في الحمام؛ لأنه موضع النجاسات، ولا يقرأ في بيت الخلاء، كذا في فتاوى قاضي خان.(الفتاوى الهندية،ج:5،ص:316)

إذ القراءة لا تكون إلا ‌بتحريك ‌اللسان بالحروف ولم يوجد.ألا ترى أن المصلي القادرعلى القراءة إذا لم يحرك لسانه بالحروف لا تجوز صلاته.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،ج:3،ص:55)


فتویٰ نمبر : 6442/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں