بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

خلع کے بعد نکاح کرنا


سوال

میرے اور بیوی کے درمیان کافی عرصہ سے گھریلوناچاقیاں چلی آرہی تھیں جس کے تصفیہ کے لیےدونوں فریقین کے خاندان والوں نے کافی تگ ودواور کوششیں کیں  لیکن ناکامی ہوئی اب فریقین باہمی رضامندی ،صلاح اور مشورے اورسوچ و بچار کے بعد اس بات پر متفق ہوئے کہ رشتہ ازدواج زوجین کے درمیان مندرجہ ذیل شرائط پربذریعہ مبارات ختم کردیا جائے۔ 1۔فریقین کے مابین رشتہ ازدواج مورخہ ۔۔۔۔ سے ختم متصورہوگا اورفریقین کے مابین بعد از دستخطوں نشان انگشت کوئی رشتہ ازدواج  باقی نہ   رہے گا اورفریق دوئم بعد ازعدت اپنی زندگی میں آزاد ہوگی ۔2۔ نابالغ بیٹا فریق اول کوحوالہ کیا جائے گااور آج یوم کے بعد فریق دوئم کا نابالغ بیٹے سے کوئی تعلق وواسطہ نہ رہے گا نیز فریق دوئم نابالغ بیٹے کی نسبت کسی عدالت  سے رجوع نہیں کرے گی ۔یہ کہ سامان جہیزپہلے سے فریق دوئم کے حوالہ کردیا گیا۔3۔فریق دوئم نے برضا وخوشی اپنا جملہ حق مہر بمطابق نکاح نامہ سے دستبرداری دے دی اورآج یوم کے بعد کسی مجازعدالت میں حق مہر کی بابت دعویداری نہیں کرےگی ۔4۔ فریقین آئندہ شرائط کے پابند رہیں گے۔ لہذا طلاق نامہ بشکل مبارات بروئے رضامندی حسب گفتہ فریقین تحریر کرکے پڑھ کر سنایا گیا اور فریقین وگواہان کے دستخط و نشان انگشت ثبت کردئے گئےتاکہ سند رہے۔ اب فریقین  پھرسےنکاح کرنا چاہتے ہیں توشرعاًان کے نکاح کا کیا حکم ہے؟کیا حلالہ ضروری ہوگا؟

جواب

جاننا چاہیے کہ اگرعورت اپنے شوہر سے کسی عوض کے بدلے علیحدگی حاصل کرے تو شرعاً یہ خلع کہلاتاہے اور خلع سے طلاق بائن واقع  ہوجاتی ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق  جب فریق دوئم نے برضا وخوشی اپنےجملہ حق مہرسے دستبردار ہوکر شوہر سے مباراۃ کی صورت میں علیحدگی  حاصل کی اور شوہرنے بھی اس سے اتفاق کیا توشرعاً ان کے درمیان طلاق بائن واقع ہوگئی ہے لہذااگر دونوں پھر سے ازدواجی تعلق قائم کرنا   چا ہتے ہوں توباہم رضامندی سے گواہوں کی موجودگی میں تجدید نکاح کر سکتے ہیں ،حلالہ کی ضرورت نہیں۔

 

(قال): وإذا اختلعت المرأة من زوجها فالخلع جائز، والخلع تطليقة بائنة عندنا.(المبسوط للسرخسي،ج:6،ص:171)

والحاصل أن ‌الخلع، ‌والمبارأة عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - توجبان براءة كل واحد منهما عن صاحبه من الحقوق الواجبة بالنكاح حتى لا يرجع أحدهما على صاحبه بشيء بعد ذلك.(المبسوط للسرخسي،ج:6،ص:189)

و الخلع (يكون بلفظ البيع والشراء والطلاق والمبارأة) كبعت نفسك، أو طلاقك، أو طلقتك على كذا أو بارأتك: أي فارقتك وقبلت المرأة.(رد المحتار على الدر المختار،ج:3،ص:443)


فتویٰ نمبر : 7259/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں