بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

تعاون میں دی گئی رقم واپس لینا


سوال

کسی ادارے کو تعاون میں دی گئی رقم واپس لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں،اکثراوقات تجربہ بھی ہے کہ مسجد کےعلاوہ لوگ خانقاہ مدرسے تبلیغی مراکزخاص کرخانقاہ کے ساتھ تعاون شخصیات کے ساتھ تعلق کی وجہ سے کرتے ہیں گو کہ ذہن میں اجروثواب بھی ہوتاہے۔ توکیا ان کوتعاون میں دی گئی رقم واپس لینا جائز ہے؟

جواب

جاننا چاہیے کہ اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ بطور ہدیہ مالی تعاون کرے اور بعد میں وہ ہدیہ واپس لیتاہوتوشرعاً یہ نہایت قبیح اورناجائز   عمل ہے۔ حدیث مبارک میں  ہبہ کرنےکے بعد رجوع کرنے والے شخص کی مثال اس کتے سے دی گئی ہے جوقے کرے اور پھر اس قے کو چاٹنے لگے ۔نیز ہبہ میں رجوع رضامندی یا قضاء القاضی سے ممکن ہے اس کے علاوہ ہبہ کرنے والے کورجوع کا حق نہیں۔

صورت مسؤلہ کے مطابق کسی  ادارے کو تعاون میں دی گئی رقم واپس  لینا شرعاً جائزنہیں کیونکہ اگر وہ صدقہ کی رقم ہوتواس كو اس کا بدل یعنی ثواب مل چکا ہے اوراگر ہبہ ہوتو ہبہ میں رجوع موہوب لہ ( جس کو ہبہ دی گئی ہو) کی رضامندی یا قضاء قاضی کے بغیرممکن نہیں، تاہم اگررقم دینے والے نے ادارے کواپنی طرف سے مستحقین کو یہ رقم حوالہ کرنے کا وکیل بنادیاہوتوجب تک ادارے نے وکیل کی حیثیت سےمستحقین کو زکوۃ حوالہ نہ کی ہوتووہ ادارے سے واپسی کا مطالبہ کرسکتاہے لیکن اگر ادارہ وکیل کی حیثیت سے اس کا مال مستحقین کے  حوالہ کرچکا ہوتو پھر رجوع کا حق باقی نہیں رہتا۔

 

عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: « مثل الذي يرجع في صدقته كمثل الكلب يقيء ثم يعود في قيئه فيأكله ».(صحيح مسلم،ج:5،ص:64)

وقال عليه الصلاة والسلام: «العائد في هبته كالعائد في قيئه»، وفي رواية: «كالكلب يقيء ثم يعود في قيئه»، والعود في القيء حرام، فكذلك ‌الرجوع ‌في ‌الهبة، والمعنى فيه أن: الهبة عقد تمليك فمطلقه لا يقتضي الرجوع فيه كالبيع؛ وهذا لأن الرجوع يضاد المقصود بالتمليك، والعقد لا ينعقد موجبا ما يضاد المقصود به.(المبسوط للسرخسي،ج:12،ص:53)

لا رجوع في الصدقة إذا تمت؛ لأن المقصود بها نيل الثواب - وقد حصل - وإنما الرجوع عند تمكن الخلل فيما هو المقصود، ويستوي إن تصدق على غني، أو فقير في أنه لا رجوع له فيها.(المبسوط للسرخسي،ج:12،ص:92)

وأما[شرط صحة] الرجوع بعد ثبوت الحق[بقضاء القاضي أو التراضي] حتى لا يصح بدون القضاء والرضا لأن الرجوع فسخ العقد بعد تمامه وفسخ العقد بعد تمامه[لا] يصح بدون القضاء والرضا كالرد بالعيب في البيع بعد القبض.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،ج:8،ص:122)


فتویٰ نمبر : 6443/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں