بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

وقف کی تعریف


سوال

وقف کیا ہے اور کن چیزوں کا وقف ہوسکتاہے؟

جواب

جاننا چاہیے کہ اصطلاح شرع میں وقف اس کو کہتے ہیں کہ کسی چیز سے اپنی عارضی ملکیت ختم کرکے اسے اس طور پرمالک حقیقی اللہ تعالی کے سپرد کر دیاجائے کہ اس سے اٌس کےبندے منافع حاصل کرتے رہیں گے۔وقف ان چیزوں کا درست ہے جوغیرمنقول ہوں جیسے زمین عمار ت وغیرہ،یا غیرمنقول کے ضمن میں منقول چیزوقف کی جائے مثلاً مکان کے ضمن میں اس کے اندر موجود سازوسامان کو بھی وقف کردیاجائےنیزامام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں جن منقول اشیاء کے وقف پرعرف ہو جیسے قرآن مجید کے نسخے، کتابیں اوروقف جگہ کے لیے پنکھے،چٹائیاں وغیرہ تو ان کا وقف کرنا بھی جائز ہے۔

 

وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية وفي العيون واليتيمة إن الفتوى على قولهما.(الفتاوى الهندية،ج:2،ص:350)

وإن كان متعارفا كالفأس والقدوم والجنازة وثيابها وما يحتاج إليه من الأواني والقدور في غسل الموتى والمصاحف لقراءة القرآن قال أبو يوسف رحمه الله تعالى إنه لا يجوز، وقال محمد رحمه الله تعالى يجوز، وإليه ذهب عامة المشايخ رحمهم الله تعالى منهم الإمام السرخسي كذا في الخلاصة وهو المختار والفتوى على قول محمد رحمه الله تعالى، كذا قال شمس الأئمة الحلواني كذا في مختار الفتاوى.( الفتاوى الهندية،ج:2،ص:361)


فتویٰ نمبر : 6455/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں