بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 28/10/2026

دارالافتاء

 

حاکم یا اس کا نائب نہ ہونے کی صورت میں عوام کا خودکسی پر حد جاری کرنا


سوال

ہمارے بعض دیہاتی علاقوں میں حاکم اور قاضی یا ان کا نائب نہیں ہوتا اورجب کوئی پرظلم کرے تو وہ بہت عرصہ اس علاقے میں رہتا ہے کہيں جاتا بھی نہیں جب کوئی گرفتاری کے لیے آئے تو وہ بھاگ کرجنگل وغیرہ میں چھپ جاتا ہے، یعنی اس کا پکڑنا مشکل ہوتا ہے، توایسے علاقوں میں مظلوم کے رشتہ دار خود حد جاری کرسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مظلوم کاعدالت ميں ظالم پر حد جاری کرنے کا مطالبہ کرنا درست ہے،البتہ قصاص اور حدود کا اختیاران کے پاس نہیں ہے بلکہ قصاص اور حدود کا اختیار صرف حاکم یا اس کی طرف سے مقررکردہ نائب کو حاصل ہے۔

صورت مسئولہ كے مطابق اگر کسی نے ظلم کیا تو اس مظلوم کے رشتہ داروں کو یہ حق تو حاصل ہے کہ وہ حکومت وقت سے حد جاری کرنے کا مطالبہ کریں، لیکن ان کو خود ظالم پرحد جاری کرنا جائز نہیں۔

‌

وأما ‌شرائط ‌جواز ‌إقامتها فمنها ما يعم الحدود كلها، ومنها ما يخص البعض دون البعض، أما الذي يعم الحدود كلها فهو الإمامة: وهو أن يكون المقيم للحد هو الإمام أو من ولاه الإمام۔(كتاب الحدود،فصل في شرائط جواز إقامة الحدود، ج:7، ص:57)


فتویٰ نمبر : 6440/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں