بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
حقیقی بیٹے کی رضاعی بہن سے نکاح کرنا
سوال
میرا ایک حقیقی بیٹا ہے، جو اب 15 سال اور4 مہینوں کا ہے، اس نے بچپن میں ایک عورت کا دودھ پیا تھا، اب میرے گھر والے اس عورت کی بیٹی سے میرا نکاح کرنا چاہتے ہیں، توکیا اس عورت کی بیٹی سے میرے لیے نکاح کرناجائز ہے؟
جواب
اگرکوئی بچہ مدت رضاعت میں کسی عورت کا دودھ پیے، تو وہ عورت اس کی رضاعی ماں بن جاتی ہے اوراس بچے پر یہ عورت اوراس کے اصول وفروع ہمیشہ کے لیےحرام ہوجاتے ہیں اوردودھ پینے والے بچے کی طرف میں یہ حرمت اس بچے اوراس کے فروع کے لیے ثابت ہوتی ہےاصول کے لیے نہیں۔
لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے لیے اپنے حقیقی بیٹے کی رضاعی بہن سے نکاح کرنا جائزہے، بشرطیکہ حرمت کا کوئی اور سبب موجود نہ ہو۔
ثم قول النبي - صلى الله عليه وسلم – "يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب" مجرى على عمومه إلا في مسألتين: إحداهما أنه لا يجوز للرجل أن يتزوج بأخت ابنه من النسب لأمه وهو أن يكون لابنه أخت لأمه من النسب من زوج آخر كان لها، ويجوز له أن يتزوج أخت ابنه من الرضاع وهو أن يكون لابنه من الرضاع أخت من النسب لم ترضعها امرأته؛ لأن المانع من الجواز في النسب كون أم الأخت موطوءة الزوج؛ لأن أمها إذا كانت موطوءة؛ كانت هي بنت الموطوءة، وإنها حرام، وهذا لم يوجد في الرضاع، ولو وجد؛ لا يجوز كما لا يجوز في النسب. (بدائع الصنائع، فصل في المحرمات بالرضاع، ج:4، ص:4)
وحاصله أن الرضيع تحرم اولاده وإن سفلوا على المرضعة،وزوجها لثبوت الجزئية الرضاعيةولا تحرم أصوله عليهما ولا غيرهم من أقرباء. (عمدة الرعاية علی شرح الوقاية، كتاب الرضاع، بيان المحرمات من الرضاع، ج:2، ص:60)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں