بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
نوسالہ بچی کا مرد کے ساتھ صف میں کھڑا ہونا
سوال
میں اپنی بیوی اور بیٹی (جس کی عمر 9 سال سے تھوڑا اوپر ہے)کے ساتھ عمرہ کے لیے جانا چاہتا ہوں، میرا ارادہ ہے کہ حرم شریف اور مدینہ منورہ میں اپنی بیٹی کو دوران جماعت اپنے ساتھ کھڑی کر کے نماز کی ادائیگی کر لیا کروں، تو کیا اس طرح کرنے سے میری نمازاداہوگی یانہیں؟
جواب
واضح رہےکہ اگرکوئی بالغ لڑکی نمازمیں کسی مرد کے برابراس طرح کھڑی ہو جائے کہ کم از کم ایک رکن (تین تسبیح پڑھنے کے بقدر) کی حالت میں اس کے ٹخنے اور پنڈلیاں مرد کے ٹخنوں اور پنڈلیوں کے برابر ہوں اور وہ دونوں ایک ہی امام کی اقتدا میں ایک ہی نماز ادا کر رہے ہوں، تو مرد کی نماز فاسد ہو جائے گی، البتہ اگر کوئی بچی مردوں کے صف کے برابر کھڑی ہو جائےاور وہ نہ بالغ ہو اور نہ ہی قریب البلوغ ہو، تو اس سے نمازپرکوئی اثر نہیں پڑتا۔
صورت مسئولہ میں، چونکہ بیٹی کی عمرنو(9) سال ہے اوراس عمر میں بلوغ کا امکان ہوتا ہے، اس لیے اگر وہ اس عمر میں بالغہ ہو چکی ہویا قریب البلوغ ہو، تو والد کے ساتھ صف میں کھڑی ہونے کی صورت میں والد کی نماز فاسد ہو جائے گی، لیکن اگروہ نا بالغہ ہو اور قریب البلوغ بھی نہ ہو، تو والد کے ساتھ صف میں کھڑی ہوسکتی ہے۔
وإن حاذته مشتهاة في صلاة مطلقة مشتركة تحريمة وأداء في مكان متحدبلاحائل فسدت صلاته وفي السراج الوهاج:ولو قامت المرأة وسط الصف فإنها تفسد صلاة ثلاثة واحد عن يمينها،وواحد عن يسارها،وواحد خلفها بحذائها واختلفوا في حدالمشتهاة وصحح الشارح وغيره أنه لااعتباربالسن من السبع على ما قيل،أوالتسع على ما قيل،وإنماالمعتبرأن تصلح للجماع بأن تكون ضخمة عبلة،والعبلة المرأة التامة الخلق. (البحرالرائق، كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:622)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں