بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نمازکی تعلیم کے دوران بچوں سے جہری قراءت کرانا


سوال

کیا بچوں کونمازکی تعلیم دیتے ہوئے، ان سےسری نمازوں میں جہراً قراءت کرنا جائزہے؟

جواب

واضح رہے کہ جن فرض نمازوں میں جہرکے ساتھ قراءت کرنا ثابت ہے، ان میں جماعت کی صورت میں جہری قراءت واجب ہےاورجن نمازوں میں آہستہ قراءت منقول ہے، ان میں سری قراءت واجب ہے، البتہ انفرادی نماز میں رات کے وقت قراءت میں اختیار حاصل ہے، چاہے جہراً پڑھے یا سراً، لیکن دن کے وقت انفرادی نماز میں بھی سری قراءت ضروری ہے، جہاں تک بچوں کو جہراً نماز پڑھانے کا تعلق ہے، تویہ عموماً تعلیمی مقصد کے تحت ہوتا ہے، تاکہ وہ نمازکی صحیح ادائیگی سیکھ سکیں، چونکہ بچےعموماً نابالغ ہوتےہیں اورشرعی احکام کے مکلف نہیں ہوتے، لہٰذا ان کے لیے یہ نمازیں نفل کے درجے میں ہوتی ہیں اور نفل نمازوں میں فرض نمازوں کے مقابلے میں وسعت پائی جاتی ہے، اس بنا پر بچوں کو سری نمازوں میں تعلیمی مقصد سے قدرے بلندآوازسے نماز پڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔

 

(في الفجر وأولى العشاءين أداء وقضاء وجمعة وعيدين وتراويح ووتر بعدها) أي في رمضان فقط للتوارث: (ويسر في غيرها) «وكان - عليه الصلاة والسلام - يجهر في الكل ثم تركه في الظهر والعصر لدفع أذى الكفار» (المخافتة إسماع نفسه) ومن بقربه؛ فلو سمع رجل أو رجلان فليس بجهر، والجهر أن يسمع الكل خلاصة. (الدر المختار على صدر رد المحتار، فصل في القراءة، ج:1، ص:535)

(وسمى سرا في كل ركعة) وقال الشافعي يجهر بالتسمية عند الجهر بالقراءة لما روى أبو هريرة أنه - عليه الصلاة والسلام - كان «يفتتح الصلاة ببسم الله الرحمن الرحيم» وكان عمر وعثمان وعلي يجهرون بها ولنا ما روي عن أنس - رضي الله عنه - أنه قال «صليت خلف النبي - صلى الله عليه وسلم - وخلف أبي بكر وعمر وعثمان فلم أسمع أحدا منهم يجهر ببسم الله الرحمن الرحيم» رواه مسلم وقال أبو هريرة «كان النبي - صلى الله عليه وسلم - لا يجهر بها» ذكره أبو عمر في الإنصاف وما رواه ليس فيه دلالة على الجهر أو يحمل على أنه كان يجهر بها أحيانا للتعليم كما كان يجهر أحيانا بالقراءة في الظهر تعليما. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، فصل الشروع في الصلاة و بيان احرامه، ج:1، ص:112)


فتویٰ نمبر : 10707/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں