بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

انسٹالمنٹ پر خریدے گئے فلیٹ میں ادا کردہ رقم پر زکوٰۃ


سوال

میں نے ایک فلیٹ  پانچ سال کی ماہانہ اقساط پر خریدا ہے، فلیٹ کی کل قیمت 53,00000روپے ہے، جس میں47،17000 روپے میں ادا کرچکا ہوں، یہ بات ملحوظ رہے کہ عمارت ابھی زیر تعمیر ہے اوراگلے سال 2026 میں  حوالہ کیا جائے گا ،اس فلیٹ کو میں اپنے رہنے کے لیے خرید رہا ہوں،تو کیااس رقم پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے یا نہیں، اگرزکوٰۃ واجب ہوتی ہے، تو کون سی رقم پر واجب ہوتی ہے، کل قیمت پریا ادا شدہ قیمت پر واجب ہوتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مقررہ قیمت کے عوض کوئی متعین فلیٹ بک  کروانا شرعا عقد استصناع ہے، جس میں خریداراُس وقت تک فلیٹ کا مالک نہیں بنتا، جب تک اسے مکمل طورپر قبضہ نہ مل جائے، البتہ اس دوران جتنی بھی اقساط وہ فلیٹ بنانے والےکو ادا کرتا ہے، وہ رقم خریدار کی ملکیت سے نکل کر صانع(بنانے والے، بلڈر) کی ملکیت شمار ہوتی ہے۔

چنانچہ صورت مسئولہ میں سائل پرادا کی گئی رقم میں زکوٰۃ واجب نہیں، کیونکہ یہ رقم ادا کرنے کے بعد شرعی طورپر وہ اس رقم کا مالک نہیں رہتا۔

 

(ولا يتعين) المبيع (له) أي للآمر (بلا رضاه فصح بيع الصانع) لمصنوعه (قبل رؤية آمره) ولو تعين له لما صح بيعه (وله) أي للآمر (أخذه وتركه) بخيار الرؤية ومفاده أنه لا خيار للصانع بعد رؤية المصنوع له وهو الأصح نهر. (الدرالمختار علی صدر رد المحتار، كتاب البيوع، مطلب في الإستصناع، ج:7، ص:476)


فتویٰ نمبر : 10708/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں