بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نماز میں قراءت کی غلطی


سوال

اگر کوئی شخص سورۃ العادیات میں "وحصّل ما في الصدور "کی بجائے "وما حصّل ما في الصدور" پڑھ لے تو اس کا کیا حکم ہےاورنماز کااعادہ ہےیانہیں؟

جواب

واضح رہے  کہ قرآن کی تلاوت میں ایسی کوئی غلطی یا ایک لفظ کی جگہ  دوسرالفظ لانا کہ اس کی وجہ سے معنی میں ایساتغیر اورتبدیلی واقع ہو جائےکہ جس کا اعتقاد کفر ہو،تواس سے نمازفاسدہوجاتی ہے، ورنہ نہیں۔

لہذاصورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی﴿وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ ﴾ کی جگہ "و ماحصل ما في الصدور "پڑھے تواب "ما"موصولہ ہونے کی صورت میں معنی میں ایسی غلطی نہیں آتی جس سے معنی میں بڑافساد آتا ہو ،اس لیے اس کی نماز درست  ہوگی اوراس پر نماز کا اعادہ لازم نہ ہوگا۔

 

ولو زاد كلمة أو نقص كلمة أو نقص حرفا، أو قدمه أو بدله بآخرلم تفسد ما لم يتغير المعنى۔

 (قوله ولو زاد كلمة) اعلم أن الكلمة الزائدة إما أن تكون في القرآن أو لا، وعلى كل إما أن تغير أو لا، فإن غيرت أفسدت مطلقا ۔(ردالمحتارعلى الدرالمختار،باب مايفسدالصلاةومايكره فيها،فروع مشي المصلي مستقبل القبله هل تفسدصلاته،ج:1،ص:632(


فتویٰ نمبر : 10721/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں