بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کسی چیز کو فروخت کرکے بعد میں واپسی کی شرط لگانا


سوال

ایک جگہ مارکیٹ بن رہی ہے،  جس کے اوپر فلیٹ ہوں گے، میں نے مارکیٹ مالک سے اس مارکیٹ میں تین دکانیں 80 سال کے لیے خرید لیں، 80 سال بعد مالک یہ دکانیں واپس لے لے گا،  تو آیا اس طرح کرنا شرعا درست ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے بیع کا حکم یہ ہے کہ  فروخت کی گئی چیز ، بیچنے والے کی ملکیت سے نکل کر  خریدار کی ملکیت میں منتقل ہو جاتی ہے، اور فروخت کرنے والے کے لیے   اس میں کسی قسم کے تصرف کا حق نہیں رہتا اور نہ مخصوص مدت کے بعد واپس لینے کا حق ہوتا ہے، اور    کسی چیز کو فروخت کرتے وقت  اگر نفس عقد میں کوئی ایسی شرط لگائی جائے   جو خرید وفروخت کے عقد کے تقاضوں کے خلاف ہو، یا اس میں خریدار یا فروخت کرنے والے کا فائدہ ہو تو اس  طرح کی شرط لگانے سےوہ معاملہ فاسد ہوجاتا ہے چنانچہ اس کو فسخ کرنا واجب ہوتا ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں سائل نے اگر  مذکورہ دکانیں   اس شرط پر خریدی ہوں کہ 80 سال بعد   فروخت کرنے والے کو وہ دکانیں واپس کرنا ہوں گی تو  یہ معاملہ فاسد ہے،کیونکہ یہ شرط فاسد ہے لہذا اس بیع کو فسخ کرنا واجب ہے۔

 

وأما حكمه فثبوت الملك في المبيع للمشتري وفي الثمن للبائع إذا كان البيع باتا وإن كان موقوفا فثبوت الملك فيهما عند الإجازة كذا في محيط السرخسي.(الفتاوى الهندية،كتاب البيوع، الباب الأول في تعريف البيع وركنه وشرطه وحكمه وأنواعه، ج:3،ص: 3)

(و) لا (بيع بشرط) عطف على إلى النيروز يعني الأصل الجامع في فساد العقد بسبب شرط(لا يقتضيه العقد ولا يلائمه وفيه نفع لأحدهما أو) فيه نفع (لمبيع) هو (من أهل الاستحقاق)...الخ(ردالمحتارعلى الدر المختار،کتاب البيوع، باب البيع الفاسد، مطلب فی البيع بشرط فاسد، ج:5،ص: 84)

 ولو اشترى شيئا ليبيعه من البائع فالبيع فاسد.(الفتاوى الهندية،کتاب البيوع، الباب العاشر فی الشروط التی تفسد البيع،ج: 3، ص:134(


فتویٰ نمبر : 3924/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں