بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ویزہ کاروبار کرنے میں اپنے لیے کمیشن رکھنا


سوال

میرا ایک دوست سعودی عرب کے  ویزے  بیچنے کا کاروبار کرتا ہے ، اس کی کوئی ایجنسی  نہیں ہے جب کوئی ان سے ویزے کے لیے رابطہ کرتا ہے تو یہ  کسی مکتب سے یا کسی سعودی سے بات کرتا ہے اور اس شخص کے لیے ویزہ خریدتا ہے ،لوگوں کو یہ نو یا ساڑھے نو  ہزار ریال میں ویزہ فروخت کرتا ہے،اس میں کچھ اپنے لیے بطور منافع لیتا ہے اور باقی جس سے ویزہ خریدا ہے اس کو دے دیتا ہے ،لیکن جس کو ویزہ بیچتا ہے  اس کو  یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس نے اپنے لیے کتنا  منافع رکھا ہے،کیا اس کا یہ کاروبار درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  جب کوئی شخص دوسرے  شخص کے ذریعے اپنے  لیے خریداری کرتا ہو ، تو اس دوسرے  شخص کی حیثیت وکیل کی ہوتی ہے۔وکیل نے اگر وکالت  کرتے وقت مؤکل کی باہمی رضامندی سے  اپنے لیے اجرت طے کی  ہو یا وکیل ایسا ہو کہ اجرت کے عوض کام کرنا اس کا معمول ہو اور لوگوں میں اس  پر مشہور بھی ہو ،تو اس کے لیے  وکالت کے پیسوں سے اجرت لینا جائز ہے ،لیکن اگر  وکیل نےعقد وکالت  کے وقت اجرت  کی شرط نہیں لگائی اور نہ  ہی اجرت پر کام کرنا  اس کا معمول ہو تو ایسی صورت میں اس کا کام کرنا تبرع شمار ہو گا ، لہذا اس پر اجرت نہیں لے سکتا۔

صورت مسئولہ کے مطابق یہ شخص جب ویزہ بیچنے کا کاروبار کرتا ہے ،تو اگر کسی کےلیے ویزہ خریدتے وقت اپنے لیے کمیشن مقرر کرے ،کہ اس میں میرے اتنے پیسے ہوں گے ،یا یہ لوگوں میں اس بات پر مشہور ہو کہ یہ ویزہ دلوانے میں  اپنے لیے بھی  کمیشن   رکھتا ہے ، تو پھر یہ شخص اپنے لیے ویزے کے پیسوں سے عرف کے مطابق مناسب رقم بطور کمیشن لے سکتا ہے، اور اگر ایسا نہ ہو تو پھریہ  محض تبرعا وکیل ہوگا  اور اس کا کمیشن لینا درست نہ ہوگا۔

 

(إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن یطالب بالأجرة) يستحق في  الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى وفي الفاسدة أجر المثل …..لكن إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا، وليس له أن يطلب أجرة. أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة.(درر الحکام في شرح مجلةالأحكام، الباب الثالث، الفصل الأول أحکام الوکالة، المادة:1468، إذا شرطت الأجرة في الوكالة، وأوفها الوكيل، ج: 3، ص: 583)


فتویٰ نمبر : 3922/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں