بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

داڑھی کو سیاہ رنگ دینا


سوال

آج کل بہت سے لوگ داڑھی کو سیاہ رنگ دیتے ہیں تو شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی شخص کو اپنے جسم میں ایسے تصرف کا حق حاصل نہیں جس کی وجہ سے اللہ تعالی کی خلقت میں تغییر اور دھوکہ دہی کا ارتکاب لازم آتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بغیر کسی شرعی عذر کے سیاہ خضاب لگانے سے احادیث مبارکہ میں ممانعت آئی ہے۔ تاہم اگر کوئی شرعی عذر موجود ہو، مثلا: کوئی شخص بوقت جہاد دشمنوں پر رعب ڈالنے کے لیے استعمال کرے تو شرعا یہ جائز ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق کسی شخص کے لیے بغیر کسی شرعی عذر کے سیاہ خضاب استعمال کرنا ممنوع ہے، تاہم خالص سیاہ رنگ کےعلاوہ دوسرےرنگوں،مثلا:زرد،سیاہی مائل سرخ اوربھورےرنگ کےاستعمال میں شرعاکوئی قباحت نہیں اوریاسیاہ رنگ میں حنا(سرخ مہندی)ملاکرلگایا جائے تو وہ بھی سیاہ رنگ نہیں رہے گا۔

 

عن جابر بن عبد الله، قال: أتي بأبي قحافة يوم فتح مكة ورأسه ولحيته كالثغامة بياضا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «غيروا هذا بشيء، واجتنبوا السواد»(صحیح مسلم،کتاب اللباس والزينة،باب استحباب خضاب الشیب،ج:2،ص:199)

اتفق المشايخ رحمهم الله تعالى أن الخضاب في حق الرجال بالحمرة سنة وأنه من سيماء المسلمين وعلاماتهم وأما الخضاب بالسواد فمن فعل ذلك من الغزاة ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود منه، اتفق عليه المشايخ رحمهم الله تعالى ومن فعل ذلك ليزين نفسه للنساء وليحبب نفسه إليهن فذلك مكروه وعليه عامة المشايخ وبعضهم جوز ذلك من غير كراهة (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراهية،الباب العشرون فی الزينةواتخاذالخادم للخدمة،ج:5،ص:414)


فتویٰ نمبر : 6451/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں