بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 15/08/2026 |
دارالافتاء
قرض کے بدلے میں مقروض سے زمین کرایہ پر لینا
سوال
اگر کوئی شخص کسی دوسرے سے کہے کہ: 'آپ مجھے پانچ لاکھ روپے دے دیں، اور بدلے میں میں اپنی چار کنال زمین آپ کے حوالے کرتا ہوں۔ آپ اس زمین سے عرفِ عام کے مطابق فائدہ اٹھائیں گے، یعنی کرایہ بھی علاقے کے مطابق ہوگا، نہ کم نہ زیادہ۔ زمین کا مالک یہ کہے کہ جب میرے پاس رقم آ جائے گی، تو میں آپ کو آپ کی رقم واپس کر دوں گا، اور آپ میری زمین مجھے لوٹا دیں گے۔ جب تک میں رقم واپس نہ کروں، آپ زمین سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے، اور کرایہ اس رقم میں سے منہا ہوتا رہے گا۔لیکن اس معاہدے میں زمین کی مدتِ استعمال متعین نہ کی جائے، یعنی یہ طے نہ ہو کہ زمین کتنے عرصے تک آپ کے پاس رہے گی۔تو کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ قرض میں اصل قاعدہ یہ ہے کہ قرض دینے والااپنےقرض سے کوئی فائدہ یا نفع حاصل نہ کرے۔اگر قرض دے کر نفع حاصل کرنے کی شرط رکھی جائے، تو یہ جائز نہیں ہے۔البتہ اگر کوئی کسی کو قرض دے اور اس سے کوئی چیزمعروف کرایہ کے مطابق پر لےتواس کی گجائش ہے،البتہ اجارہ کے معاملہ میں یہ ضروری ہے کہ اس کی کل مدت معلوم ہوورنہ اجارہ فاسد ہوگا۔اسی طرح قرض اوراجارہ دونوں ایک عقد میں یاایک دوسرے کے ساتھ مشروط نہ ہوں ورنہ ایک عقد میں دو عقدوں کا جمع کرنا لازم آئےگا جو کہ ناجائز ہے۔
لہذا قرض کے بدلے مقروض سے کوئی چیز کرایہ پر لے کر اس کرایہ کی مقدار کو قرض سے منہا کرنا جائزلیکن صور ت مسئولہ کے مطابق چونکہ اجارہ کی مدت معلوم نہیں ہے اس لیے یہ عقد فاسد ہے۔البتہ اگر اس عقد کو فسخ کرکے نیا عقد کیا جائے جس میں مدت اجارہ متعین کی جائے اورقرض واجارہ کےعقد بالکل الگ الگ کئےجائیں تو پھر یہ جائز ہوگا۔
وأما بيان شرائطها فنقول يجب أن تكون الأجرة معلومة، والعمل إن وردت الإجارة على العمل، والمنفعة إن وردت الإجارة على المنفعة، وهذا لأن الأجرة معقود به والعمل أو المنفعة معقود عليه، وإعلام المعقود به وإعلام المعقود عليه شرط تحرزاً عن المنازعة كما في باب البيع، وإعلام المنفعة ببيان الوقت، وهو الأجل أو بيان المسافة. (المحيط البرهاني،كتاب الإجارات،الفصل الأول:في بيان الألفاظ التي تنعقد بها الإجارةوفي بيان نوعها وشرائطها وحكمها ،ج:7،ص:395)
انواع الربا: واما الربا فهو ثلاثة اوجه: احدها في القروض، والثاني في الديون، والثالث في الرهون. الربا في القروض: فاما في القروض فهو على وجهين: احدها ان يقرض عشرة دراهم باحد عشر درهما او باثني عشر ونحوها. والآخر ان يجر الى نفسه منفعة بذلك القرض او تجر اليه وهو ان يبيعه المستقرض شيئا بارخص مما يباع او يؤجره او يهبه... ولو لم يكن سبب ذلك هذا القرض لما كان ذلك الفعل فان ذلك ربا وعلى ذلك قول ابراهيم النخعي كل دين جر منفعة لا خير فيه.(رد المحتار على الدرالمختار،أنواع الربا،ج:1،ص: 485،484)
وفي الرد: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه."(رد المحتار على الدر المختار،کتاب البیوع، باب المرابحة والتولیة، فصل فی القرض، مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج: 5، ص: 166)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں