بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سنت مؤکدہ کا ثبوت


سوال

سنت مؤکدہ کا پڑھنا قرآن سے ثابت نہیں ہےتوکہا ں سے ثابت ہے اوراس کے چھوڑنے پر گناہ ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ احکام شریعہ کا ثبوت صرف قرآن سے نہیں ہوتا بلکہ احادیث مبارکہ ،اجماع اور قیاس سے بھی ان کا ثبوت ہوتاہے۔بہت سارے احکام ایسے ہیں کہ ان کا تذکرہ قرآن میں صراحتاموجودنہیں البتہ احادیث مبارکہ میں ان کے بارے میں واضح احکامات موجود ہیں، اورمستند احادیث سے ثابت شدہ احکام بھی دراصل اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں، کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے:

 ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ﴾ [الحشر: 7] 

ترجمہ:اوررسول تمہیں جوکچھ دیں ،وہ لےلو،اورجس چیز سے منع کرے،اس سے رک جاؤ۔

احادىث سے ثابت شده احکام میں سےسنن مؤکدہ بھی ہیں یہ وہ نماز ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیشہ مداومت کے ساتھ ادا کی ہو، اور کبھی بھی بلا کسی عذر کے اسے نہ چھوڑا ہو،سنت مؤکدہ کی  بارہ رکعات حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی پابندی سے ادا فرمائیں، اور اس کی  تاکید بھی بیان فرمائی اس لیےسنتِ مؤکدہ کااہتمام ضروری ہے، بلاکسی عذر کے سنتِ مؤکدہ کاترک جائز نہیں ۔ جوشخص بلاکسی عذر کے سنتِ مؤکدہ ترک کرتاہے وہ گناہ گار اور لائقِ ملامت ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے محرومی کا اندیشہ  بھی ہے،  فقہاءِ کرام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ان سنتوں کو صحیح تو سمجھتا ہے، لیکن بلاعذر سنتِ مؤکدہ کو چھوڑنے کی عادت بنالیتا ہے تو گناہ گار ہوگا، لیکن اگر کوئی شخص ان سنتوں کو حق نہ سمجھتے ہوئے چھوڑ دے تو  یہ عمل انسان کو کفر تک پہنچاسکتاہے ۔

 

عن عائشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌ثابر» ‌على ‌ثنتي ‌عشرة ‌ركعة ‌من ‌السنة بنى الله له بيتا في الجنة: أربع ركعات قبل الظهر، وركعتين بعدها، وركعتين بعد المغرب، وركعتين بعد العشاء، وركعتين قبل الفجر.(.سنن الترمذی، أبواب الصلاة، باب ماجاء فيمن صلى في يوم وليلة ثنتي عشره ركعةإلخ،ج:1 ، ص:439)

‌ (قوله: ويلام)... في التلويح ترك ‌السنة ‌المؤكدة ‌قريب من الحرام يستحق حرمان الشفاعة، لقوله عليه الصلاة والسلام: «من ترك سنني لم ينل شفاعتي»". اهـ. وفي التحرير: إن تاركها يستوجب التضليل واللوم،. اهـ. والمراد الترك بلا عذر على سبيل الإصرار كما في شرح التحرير لابن أمير حاج ويؤيده ما سيأتي في سنن الوضوء من أنه لو اكتفى بالغسل مرة إن اعتاده أثم، وإلا لا.وفي البحر من باب صفة الصلاة: الذي يظهر من كلام أهل المذهب أن الإثم منوط بترك الواجب أو السنة المؤكدة على الصحيح؛ لتصريحهم بأن من ترك سنن الصلوات الخمس قيل: لا يأثم والصحيح أنه يأثم۔)ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الطهارة ،سنن الوضوء،ج:1،ص:104)

رجل ترك سنن الصلاة إن لم ير السنن حقا ‌فقد ‌كفر؛ ‌لأنه ‌تركها ‌استخفافا وإن رآها حقا فالصحيح أنه يأثم؛ لأنه جاء الوعيد بالترك. كذا في محيط السرخسي.(الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة،الباب التاسع فى النوافل، ج:1،ص:112)


فتویٰ نمبر : 10715/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں