بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شرعی مسافت پر جانے والے ڈرائیور کی نماز کا حکم


سوال

میں ڈرائیونگ  کرتا ہوں مجھے روز دوسرے شہر میں جانا پڑتا ہے درمیان میں سفر 100 کلومیٹر سے زیادہ ہوتا ہے، لیکن آنے جانے میں تین سے چار گھنٹے لگتے ہیں. اب میں سفر کے دوران پوری نماز پڑھوں گا یا قصرنماز پڑھوں گا؟

جواب

 واضح رہے کہ فقہاےکرام نے شرعی سفر کی جو مقدار مقرر کی ہے وہ 48 میل یا 78 کلو میٹر ہے اب  اگر کوئی  اپنے شہر کے  حدود سے 78 کلو میٹر یا اس سےزیادہ  فاصلے کی نیت سے سفر پر نکلے تو وہ  شرعی مسافر سمجھا جائے گا،لہذااپنے شہرکے حدود سے نکلنے کے بعد واپس آنے تک قصر نماز پڑھے گا۔

صورت مسؤلہ  کے مطابق  جب سائل  کے شہراور دوسرے شہر کےدرمیان فاصلہ  100کلومیٹر سے زیادہ ہے توسفر شرعی پوری ہو نے کی وجہ سے دوران سفرسائل شرعی طورپر مسافر شمار ہوگا،لہذادوران سفر قصر نماز پڑھنی ہوگی،البتہ مقیم امام کی اقتدا ء میں نماز پڑھنے کی صورت میں مکمل نماز پڑھے گا۔

 

ولا يزال على حكم السفر ‌حتى ‌ينوي ‌الإقامة ‌في ‌بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر، كذا في الهداية.( الفتاوی الھندیة ،کتاب الصلوۃ الباب الخامس عشرفی صلوۃ المسافر،ج:1، ص:139)

من خرج من عمارة موضع إقامته۔۔۔ قاصدا مسيرة ثلاثة أيام ولياليها ۔۔۔صلى ‌الفرض ‌الرباعي ركعتين وجوبا لقول ابن عباس: إن الله فرض على لسان نبيكم صلاة المقيم أربعا والمسافر ركعتين.(الدر المختار شرح تنوير الأبصار ،کتاب الصلوہ باب صلوۃ المسافر،ص:105)


فتویٰ نمبر : 10701/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں