بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسافر کا جمعہ کی نماز میں شرکت کرنا


سوال

ایک شخص جمعہ کے دن دوپہر کو سفر پر نکلا اور ایک مقام پر رکا  وہاں جمعہ کی اذان ہو چکی تھی ،تو کیا اس پر جمعہ واجب ہے؟ یا وہ ظہر کی نماز  قصرسے   پڑھے گا؟ اگر کسی جامع مسجد میں جمعہ ہو رہا ہو تو کیا وہاں شریک ہو سکتا ہے؟

جواب

 جمعہ کی شرائط میں سے ایک شرط اقامت بھی ہے ،اس لیے مسافر پر نماز جمعہ واجب  نہیں  ہے ،البتہ  اگر کوئی مسافر کسی جگہ پر پہنچے اور وہاں پر جمعے کی نماز ہوتی ہو ،تو مسافر کے لیے اس میں شرکت کرنا جائز ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق مسافر اگر جمعہ کی نماز میں شرکت کرنا چاہے ،تو کرسکتا ہے ،اور اگر ظہر کی نماز قصر سے پڑھے تواس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔

 

(قوله، ومن لا جمعة عليه إن أداها جاز عن فرض الوقت)  لأنهم تحملوه فصاروا كالمسافر إذا صام، وأشار بقوله جاز عن الفرض إلى أنهم أهل للتكليف فلا يرد عليه الصبي والمجنون، وإن دخلا تحت قوله، ومن لا جمعة عليه؛ ولهذا فصل في البدائع فيمن لا جمعة عليه فقال إن كان صبيا وصلاها فهي تطوع له وإن كان مجنونا فلا صلاة له أصلا وأما من كان أهلا للوجوب كالمريض والمسافر والمرأة والعبد يجزئهم ويسقط عنهم الظهر.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،كتاب الصلاة،باب صلاة الجمعة ،شروط وجوب الجمعة،ج:2، ص:164)

(قوله: وفي البحر إلخ) أخذه في البحر من ظاهر قولهم: إن ‌الظهر ‌لهم ‌رخصة فدل على أن الجمعة عزيمة، وهي أفضل.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الصلاة ، باب الجمعة، ج:2، ص:155)


فتویٰ نمبر : 10711/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں