بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

باپ کی موت سے پہلے بیٹا مرجائے تو اس کا میراث میں حصہ


سوال

ایک شخص کے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ ان میں سے تین بیٹے اپنے والد کی زندگی ہی میں فوت ہوگئے۔ پھر والد فوت ہوئے۔ والد کی فوتگی کے بعد اس کے دو بیٹے اور ایک بیٹی زندہ موجود تھی۔ سوال یہ ہے کہ جو تین بیٹے باپ سے پہلے فوت ہوئے اُن کو یا ان کی اولاد کو وراثت میں کوئی حصہ ملے گا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے، تو اس کی میراث صرف انہی ورثاء میں تقسیم ہوتی ہے، جو اس کے انتقال کے وقت زندہ موجود ہوں، چنانچہ جو  افراد مورث (یعنی جس کی میراث تقسیم ہو رہی ہو) کی زندگی میں ہی فوت ہوجائیں، وہ شرعاً میراث میں حق دار نہیں ہوتے؛ لہٰذا جو بیٹے اپنے والد کی زندگی میں انتقال کرجائیں، ان کو والد کی میراث میں کوئی شرعی حق (حصہ) نہیں بنتا۔

صورت مسئولہ میں مرحوم کے تین بیٹے جو اس سے پہلے انتقال پاچکے ہیں ان کا یا ان کی اولاد کا مرحوم کی میراث میں کوئی حصہ نہیں بنتا۔ البتہ مرحوم کی وفات کے وقت جو دو بیٹے اور ایک بیٹی زندہ تھی میراث صرف انہی کا حق ہے۔

 

قال الله تعالى: ﴿وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِىۡ كِتٰبِ اللّٰهِ​  اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾. (الأنفال: 75)

أن ‌شرط ‌الإرث وجود الوارث حيا عند موت المورث۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج:6، ص: 769)


فتویٰ نمبر : 3766/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں