بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

میاں بیوی کا ایک دوسرے کو نام لے کر پکارنا


سوال

بیوی کا خاوند کو اس کے نام کے ساتھ پکارنا اور خاوند کا بیوی کو اس کے نام کے ساتھ پکارنا صحیح ہیں یا نہیں؟ دونوں کا حکم کیا ہے؟

جواب

شوہر کے لیے اپنی بیوی کو نام لے کر پکارنے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ بیوی کے لیے شوہر کا نام لے کر پکارنے کو فقہاءکرام نے مکروہ کہا ہے، کیوں کہ شوہر کا نام لے کر آواز دینے یا پکارنےمیں ایک قسم کی بے ادبی پائی جاتی ہے، لہٰذا بیوی کو چاہیے کہ وہ شوہر کا نام لے کر پکارنے کی بجائے کسی دوسرے مناسب لقب یا کنیت وغیرہ کے ساتھ پکارے۔

 

(ويكره أن يدعو الرجل أباه وأن تدعو المرأة ‌زوجها ‌باسمه)  بلفظه. (قوله ويكره أن يدعو إلخ) بل لا بد من لفظ يفيد التعظيم كيا سيدي ونحوه لمزيد حقهما على الولد والزوجة، وليس هذا من التزكية، لأنها راجعة إلى المدعو بأن يصف نفسه بما يفيدها لا إلى الداعي المطلوب منه التأدب مع من هو فوقه۔ (رد المحتار علی الدر المختار، كتاب الحظر و الإباحة، ج:6، ص:418)


فتویٰ نمبر : 6428/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں