بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد اذان سے پہلے نماز پڑھنا
سوال
جب نماز کاوقت ہوجائے تو نماز پڑھ لیں یا اذان کا انتظار کرنا چاہیے جیسے آج کل عشاء کاوقت 08:42 پر ہوجاتا ہے اور اذان ہمارے شہر میں دس منٹ بعد ہوتی ہے تو اذان کا انتظار کریں یا وقت ہوتے ہی نماز پڑھ سکتے ہیں؟ اور جو نمازیں نماز کا وقت ہوتے ہی پڑھ لیں اذان کا انتظار نہیں کیا تو وہ قبول ہوں گی یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ نماز کی ادائیگی کے شرائط میں سے ایک شرط وقت کا داخل ہونا بھی ہے۔ چنانچہ اگر نماز کو وقت کے اندر پڑھا جائے، تو نماز ہو جائے گی۔ جہاں تک اذان کا تعلق ہے تو یہ محض وقت کی پہچان کے لیے ایک اعلان ہے۔ اگر اذان ہونے سے پہلے وقت کے اندر نماز پڑھی جائے تو نماز جائز ہوگی۔
لہٰذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر اذان کے انتظار کے بغیر وقت کے اندر نماز پڑھی جائے تو نماز ادا ہو جائے گی۔ البتہ مردوں کے لیے چونکہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے اور واجب کے قریب ہے، اس لیے مرد اگر بلا کسی عذر کے نماز کا وقت ہوتے ہی اذان سے پہلے انفرادی نماز پڑھ لے تو اس کی نماز ادا تو ہوجائے گی لیکن جماعت چھوڑنے کا گناہ ملے گا، اور اگر کوئی شرعی عذر (بیماری، سفر یا شدید بارش وغیرہ) ہو تو پھر گناہ نہیں۔
الباب الثالث في شروط الصلاة: الطهارة من الأحداث۔۔۔۔ القبلة والوقت والنية والتحريمة. (الفتاوی الھندیۃ، الباب الثالث في شروط الصلوة، ج:1، ص: 58)
لما كان الوقت سببا كما مر قدمه. وذكر الأذان بعده؛ لأنه إعلام بدخوله۔۔۔ الأصل في مشروعية الأذان الإعلام بدخول الوقت۔ (رد المحتار على الدر المختار، ج:1، ص: 383)
"(والجماعة سنة مؤكدة للرجال) قال الزاهدي: أرادوا بالتأكيد الوجوب إلا في جمعة وعيد فشرط. (رد المحتار على الدر المختار، ج:1، ص: 552)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں