بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ایک مؤذن کا دو مسجدوں میں اذان دینا


سوال

ایک مؤذن ایک نماز کی اذان دومساجد میں دے سکتا ہے کہ ایک مسجد میں اذان دے، پھر دوسری مسجد میں اذان دے اور وہاں نماز پڑھے؟

جواب

مؤذن کا ایک وقت میں دو مسجدوں میں اذان دینا مکروہ ہے۔ کیوں کہ وہ جس مسجد میں نماز نہیں پڑھے گا اس میں ایسی نماز کی طرف بلانے والا ہوگا جس نماز کو وہ خود نہیں پڑھے گا اور یہ مکروہ ہے۔

 

يكره له أن يؤذن في مسجدين. (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج:1، ص: 400)

و يكره أن يؤذن في مسجدين ويصلي في أحدهما. (كتاب الصلاة، باب الأذان، مسائل الأذان، فتاوى قاضيخان، ج:1، ص:37)


فتویٰ نمبر : 10699/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں