بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

ہونٹ یا منہ سے اجڑی ہوئی کھال کا حکم


سوال

ہونٹوں سے یا منہ کے اندر سے اجڑنے والی کھال  کیاپاک ہے یا ناپاک ؛کیونکہ ٹھنڈ کے موسم میں یا پھر کچھ کھانے کی وجہ سے ہونٹ اور منہ کے کھال اجڑ آتے ہیں۔اصل حکم اس کھال کے پاکی اور ناپاکی کے بارے میں جاننا ہے۔اگر کھال ہونٹ سے یا منہ کے اندر کے حصے سے جدا ہو گئی ہو تو منہ کا حصہ ناپاک ہوگا یا نہیں؟اور اگر کھال کی وجہ سے منہ ناپاک شمار کیا جائے تو کھانا اور پانی کا کیا حکم ہوگا کیا وہ بھی ناپاک ہو جائیں گے؟

جواب

انسانی جلد یا اس کا چھلکا اگر پانی میں گر جائے تواگر مقدار کم ہو، مثلاً وہ معمولی کھال جو پاؤں یا ہونٹ وغیرہ کی خشکی یا پھٹنے سے جھڑ جاتی ہے، تو یہ پاک ہے اور اس سے پانی ناپاک نہیں ہوتا۔اگر مقدار زیادہ ہو، مثلاً ناخن کے برابر یا اس سے بڑی کھال یا گوشت کا ٹکڑا پانی میں گر جائے، تو وہ پانی ناپاک ہو جائے گا۔

صورت مسئولہ میں  ہونٹ یا منہ کی اندرسے جھڑنے والاچھلکا چونکہ معمولی مقدار میں ہوتاہے اس لیے اس سے منہ ناپاک نہ ہوگااور نہ ہی کھانے یا پانی  میں گرنے سےاس پر کوئی اثر پڑتا ہے۔

 

جلد الإنسان إذا وقع في الماء أو قشره إن كان قليلا مثل ما يتناثر من شقوق الرجل ونحوها لا يفسد الماء وإن كان كثيرا يعني قدر الظفر يفسده.(الفتاوی الهندية،كتاب الطهارة،الباب الثالث في المياه،ج:1،ص:24)

(قوله ويفسد الماء) أي القليل (قوله من جلده) أي أو لحمه مختارات النوازل. زاد في البحر عن الخلاصة وغيرها: أو قشره وإن كان قليلا مثل ما يتناثر من شقوق الرجل ونحوه لا يفسد الماء.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الطهارة،باب المياه،ج:1،ص:208)


فتویٰ نمبر : 10702/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں