بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

خلاف المسلک امام کی اقتدا میں نماز پڑھنا


سوال

اگر کوئی حنفی المسلک شخص شافعی المسلک امام کی اقتدا کرے تو احکام میں کونسے مسلک کا اعتبار ہوگا۔ یعنی اگر امام یا خودمقتدی کے جسم سے خون نکلے تو مقتدی کی نماز فاسد ہوگی یا نہیں؟ حنفی المسلک شخص کی اقتدا وتر میں شافعی المسلک امام کے پیچھے جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو اس کے مذہب کے مطابق وترادا کرے گا یا بعد میں دوبارہ وتر نماز ادا کرے گا؟

جواب

واضح رہے کہ اگر كوئی ایسے مسلک کے امام کی اقتداء کرے جس کے ساتھ فروعی مسائل میں اختلاف ہو تو نماز کی صحت اورعدمِ صحت کے احکام میں مقتدی کے مسلک کا اعتبار کیا جائے گا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی حنفی المسلک شخص کسی شافعی المسلک امام کی اقتدا کرے توامام کے بدن سے خون نکلنے کی صورت میں حنفی المسلک مقتدی کی نماز فاسد ہوگی، کیونکہ احناف کے نزدیک خون نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ۔ اسی طرح اگر مقتدی کے بدن سے خون نکلے تب بھی اس کی نماز فاسد ہوگی۔اسی طرح جب غیر حنفی امام وتر کی دو رکعتوں کے بعد سلام نہ پھیرتا ہو تو حنفی المسلک شخص کو اس کے پیچھے وتر پڑھنا درست ہے، لیکن اگر دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرتا ہو تو اس کے پیچھے وتر پڑھنا درست نہیں ۔ اگر کسی حنفی المسلک شخص نے ایسے امام کی پیچھے وتر پڑھ لی تو اس کا ذمہ فارغ نہیں ہوگا، بلکہ بعد میں وتر کا اعادہ ضروری ہوگا۔

 

وأما الاقتداء بالمخالف في الفروع كالشافعي فيجوز ما لم يعلم منه ما يفسد الصلاة على اعتقاد المقتدي عليه الإجماع۔(رد المحتار علی الدر المختار، كتاب الصلوة، باب الإمامة، ج:2، ص: 302)

(وصح الاقتداء فيه) ففي غيره أولى إن لم يتحقق منه ما يفسدها في اعتقاده في الأصح كما بسطه في البحر(بشافعي)مثلا (لم يفصله بسلام) لا إن فصله ( على الأصح ) فيهما للاتحاد۔ وقال ابن عابدين:ثم قال ظاهر الهداية أن الاعتبار لاعتقاد المقتدي ولا اعتبار لاعتقاد الإمام حتى لو اقتدى بشافعي رآه مس امرأة ولم يتوضأ فالأكثر على الجواز وهو الأصح كما في الفتح وغيره۔ (رد المحتار مع الدر المختار، كتاب الصلوة، باب الوتروالنوافل، ج:2، ص:444)

أن المذهب الصحيح صحة الاقتداء بالشافعي في الوتر إن لم يسلم على رأس الركعتين وعدمها إن سلم۔(البحر الرائق، كتاب الصلوة، باب الوتر والنوافل، ج:2، ص:70)


فتویٰ نمبر : 10698/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں