بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حرام اور حلال چیزیں فروخت کرنے والے ہوٹل میں نوکری کرنا


سوال

میں اٹلی میں ایک ایسے ہوٹل میں نوکری کرتا ہوں جہاں حرام اور حلال  چیزیں فروخت کی جاتی ہیں کیا میرے لیے ایسے ہوٹل میں کام کرنا جائز ہے یانہیں؟

جواب

واضح رہےکہ شریعتِ مطہرہ  میں مسلمان کےلیے جوچیز حرام ہے، اس حرام چیز کو خریدنا یا فروخت کرنا یا کسی کو فراہم کرنا بھی حرام  ہے،اور جو چیز حلال ہے اس چیز کو خریدنا یا فروخت کرنا بھی حلال اور جائز ہے۔لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق سائل کا ایسےہوٹل میں کام کرنا کہ جس میں حلال اورحرام چیزیں فروخت ہوتی ہے تو سائل کےذمہ اگر شراب یا خنزیر یا اس جیسی حرام چیزیں فروخت کرنا نہیں ہوتا ،تو وہاں کام کرنا جائز ہوگا اور اگر حرام اور ناجائز چیزوں کو فروخت کرنے میں حصہ لیا جاتا ہو تو جس قدر اس میں حصہ لیا ہے، اس کے بقدر معاوضہ وصول کرنا ناجائز ہوگا اور اس طرح حصہ لینا گناہ کا سبب ہوگا، لہذا ایسی جگہوں پر کام کرنے سے اجتناب بہتر ہے۔ اگر بوجہ مجبوری عارضی طور پر کام کرنا ہو تو مالک سے پہلے ہی طے کرلیا جائےکہ شراب اور خنزیر وغیرہ ناجائز اشیاء میں تعاون نہیں کروں گا، نیزاپنے لیے کو ئی متبادل نوکری  كی  تلاش جاری رکھے۔

 

قال الله تعالى:﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾(المائدة:2)

وقال:﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ﴾(المائدة:3)

‌وقوله ‌تعالى: {‌وتعاونوا ‌على ‌البر ‌والتقوى} ‌يقتضي ‌ظاهره ‌إيجاب ‌التعاون على كل ما كان طاعة لله تعالى; لأن البر هو طاعات الله. وقوله تعالى: {ولا تعاونوا على الأثم والعدوان} نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى.(احکام القرآن للجصاص،سورةالمائدة،الآية:2،ج:2،ص:381) 

عن أنس بن مالك قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌في ‌الخمر ‌عشرة: عاصرها، ومعتصرها، وشاربها، وحاملها،والمحمولةإليه،وساقيها،وبائعها،وآكل ثمنها،والمشتري لها، والمشتراة له(سنن الترمذي أبواب البيوع، باب النهي عن أن يتخذ الخمر،ج:2،ص:580)

ولواستاجرمسلما لیرعی له الخنازیر یجب ان یکون علی الخلاف کما فی الخمرولواستاجرہ لبیع له میتة لم یجزهكذا في الذخیرۃ.(الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة،الباب السادس،ج:4،ص:450)


فتویٰ نمبر : 6449/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں