بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

امداد باہمی کی صورت میں ورثا کوملنے والی رقم کی تقسیم


سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا والد صاحب امیر گل کا انتقال ہوچکا ہے، جس کے ورثا میں تین بیویاں تھی، پہلی بیوی میم باشہ جس سے تین بیٹے(ثمرگل، عمرفاروق اور عمرنسیم) اور 2 بیٹیاں(شریفہ اور شمائلہ) موجود تھیں، دوسری بیوی روبینہ بی بی جس سےدو بیٹے(محمدمکنون اور محمد نون) اور ایک بیٹی(مدینہ) تھی، اور تیسری بیوی ترینہ بی بی سے دو بیٹے(احمدنون اور ابوبکر) اور ایک بیٹی(سلوا) موجود تھی۔ ان ورثاء میں سے ایک بیوی(میم باشہ) اور ایک بیٹا(ثمرگل) والد کی زندگی میں ہی وفات پا چکے تھے۔ اور میرے والد نے وفات سے 18سال پہلےایک بیوی(روبینہ) کو طلاق دی تھی۔ مزید یہ کہ میرے والد صاحب کا انتقال سعودی عرب میں ہوا، اور وہاں مقیم پاکستانی مسافروں نے ایک  کمیٹی قائم کی  ہے، جس میں شامل ہونے والے   مسافروں میں سے اگرکوئی مسافر فوت ہوجائے، تو اس کی میت کو پاکستان بھجوانے کے اخراجات کےلیے وہ سو سو ریال جمع کرتے ہیں، اور بقیہ رقم مرحوم کے ورثا کو دیتےہیں۔ اس فنڈ سے 70500ریال ورثا کے نام پر موصول ہوئے ہیں۔ 1۔ اب پوچھنا یہ کہ مذکورہ ورثاء میں میراث کیسے تقسیم ہوگا؟ 2۔سعودی عرب سے آئے ہوئے پیسوں میں کس کس کا حق ہے اور  اس کو کیسے تقسیم کیا جائے گا میراث کے طریقے پر یا برابر؟ 3۔ مرحوم نے اپنی اولاد میں سے دو بیٹوں کو عاق کیا تھا عاق کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے اور کیا ترکہ اور باہر سے بھیجے ہوئے پیسوں میں ان دونوں کا حصہ ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ والدین کے لیے اپنی اولاد میں سے کسی کواپنی جائیداد سے عاق کرنا معتبر نہیں، اگر کسی نے اپنی اولاد میں سے کسی کو اپنی جائیداد سے عاق کردیا، تو اس سے وہ اپنے شرعی حصہ سےمحروم نہیں ہوگا، بلکہ شرعی حصہ بدستور اس کو ملےگا۔ نیز طلاق یافتہ عورت عدت مکمل ہونے کے بعد سابق شوہرکی وفات پر اس کی میراث میں کوئی حق نہیں رکھتی۔ نیز میراث کے احکام ان اموال میں جاری ہوتے ہیں، جو میت کی زندگی میں اس کی ملکیت میں ہو، چنانچہ اگر کسی کمیٹی یا ادارے کی طرف سے میت کے انتقال کے بعد ورثا کو بطورِ امداد کوئی رقم دی جائے، تووہ رقم عطیہ اور تبرع شمار ہوگی، اوراس میں میراث کے احکام جاری نہیں ہوں گے، بلکہ وہ رقم  کمیٹی کے قانون کے مطابق تقسیم کی جائے گی،  وہ جس کو جتنی رقم  دیں، وہ اسی کی  ملک سمجھی جائے گی۔

صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد کی وفات کے بعد کمیٹی کی طرف سے امدادِ باہمی کی صورت میں ورثا کے نام پہ جو رقم موصول ہوئی ہے، وہ عطیہ کے حکم میں ہے، اس لیے یہ ترکہ شمار نہ ہوگی، بلکہ یہ رقم جس کے نام پر آئی ہے، اسی کی ملکیت ہو گی، اور اگر تمام ورثا کے نام پر آئی ہو تو ان کے درمیان برابر تقسیم کی جائے گی۔ نیز مرحوم نے اپنی زندگی میں جن دو بیٹوں کو اپنی جائیداد سے عاق کیاتھا، وہ دونوں بھی دیگر ورثا کی طرح اپنے شرعی   حصے کے حقدار ہوں گے۔ البتہ جو ورثا مرحوم سے پہلے وفات پاچکے ہوں، یا وہ بیوی جو طلاق یافتہ ہو چکی ہواور اس کی عدت بھی ختم ہوچکی ہو، تو ان کو میراث میں حصہ نہیں ملے گا، باقی ورثا کے مابین ترکہ کی تقسیم یوں ہوگی۔

 

میــــ(امیرگل)ــــــ(128)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـ ـ

     بیوہ             بیٹا            بیٹا            بیٹا              بیٹا             بیٹا             بیٹا     

 ترینہ بی بی     عمرفاروق      عمرنسیم       محمدمکنون       محمدنون       احمدنون         ابوبکر

     16            14             14            14            14             14            14

ـ ـ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

بیٹی          بیٹی        بیٹی         بیٹی

شریفہ      شمائلہ      مدینہ         سلوا

  7           7           7            7

بشرط صدق وثبوت اگر مرحوم(امیر گل) کا مذکورہ ورثا کے علاوہ کوئی اور زندہ وارث موجود نہ ہو،  تو بعد از ادائےحقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ ایک سو اٹھائیس(128) حصوں میں تقسیم ہوکر بیوہ(ترینہ بی بی) کو سولہ (16/128)حصے، چھ بیٹوں(عمرفاروق، عمرنسیم، محمد مکنون، محمد نون، احمد نون اور ابوبکر) میں سےہر ایک کوچودہ(14/128)حصے، جبکہ چاربیٹیوں(شریفہ، شمائلہ،مدینہ اور سلوا) میں سے ہر ایک کو سات(7/128) حصے ملیں گے۔

 

قال الله تعالى: ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [النساء: 11] 

وقال تعالى: ﴿فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ﴾ [النساء: 12] 

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌قطع ‌ميراث ‌وارثه ‌قطع ‌الله ‌ميراثه ‌من ‌الجنة ‌يوم ‌القيامة». (مشكاة المصابيح، كتاب الفرائض والوصايا، باب الوصايا، الفصل الثالث، ج:2، ص:926)

 لان التركة في الاصطلاح ‌ما ‌تركه ‌الميت ‌من ‌الأموال ‌صافيا ‌عن ‌تعلق ‌حق ‌الغير ‌بعين ‌من ‌الأموال. (ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الفرائض، ج:7، ص:350)

العطاء لایورث. (الأشباہ والنظائر لإبن نجيم، كتاب الفرائض، ص:256)


فتویٰ نمبر : 3761/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں