بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

چھوڑی گئی کتابوں کا استعمال


سوال

ہماری درسگاہ میں گزشتہ سال کے بعض طلبا کی چند کتابیں رہ گئی ہیں، ان میں سے بعض کتابیں درسی ہیں جبکہ بعض خارجی کتب ہیں، بعض کتابوں پرطلبہ کے نام بھی درج ہیں، جبکہ اب وہ طلبہ مدرسہ سے جا چکے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ کیا ان چھوڑی گئی کتابوں کو ہم اپنے استعمال میں لاسکتے ہیں یا نہیں؟  جبکہ اگر انہیں استعمال میں نہ لایا جائے تواس کے  ضائع ہونے کااندیشہ ہے۔

جواب

واضح رہے کہ کوئی بھی سامان اگر پڑا ہوا ملے اور مالک معلوم نہ ہو، تو وہ لقطہ کے حکم میں ہے، لقطہ اگر قیمتی چیز ہو تو اس کی تشہیر کرنا ضروری ہے، تشہیر کے بعد اگر باوجود کوشش کے مالک کا علم نہ ہوسکے اور چیز ضائع ہونے کا خوف ہو، تو اسے فقراء پر صدقہ کردیاجائے، البتہ اگر سامان اٹھانے والا شخص خود مستحق زکوٰۃ ہو، تو خود بھی استعمال کرسکتا ہے، بصورتِ دیگر خود استعمال کرنا جائز نہیں ۔

صورتِ مسئولہ میں جو کتابیں درسگاہ میں رہ گئی ہیں، تو ان کی مالکان تک پہنچانے کی حتی الوسع  کوشش کی جائے، لیکن اگر مالک تک پہنچانا ممکن نہ ہو، اور اتناعرصہ گزر جائے کہ اب یقین یا غالب گمان ہوجائے کہ مالک واپس نہیں آئے گا، تو وہ فقراء پر صدقہ کی  جائے، یا اگراٹھانے والاخود مستحق زکوٰۃ ہو تو  وہ خود بھی استعمال کرسکتا ہے۔ البتہ اگر بعد میں اصل مالک مل جائے تواُسے بتانا ضروری ہوگا، پھر اگر وہ قیمت کا مطالبہ کرے، تو اس کی ادائیگی واجب ہوگی۔

 

 وللملتقط أن ينتفع باللقطة بعد التعريف لوفقيرا وإن غنيا تصدق بها ولو على أبويه أو ولده أو زوجته لو فقراء. وللمالك أخذها ولايجب دفع اللقطة إلى مدعيها إلا ببينة ويحل إن بين علامتها من غير جبر. (ملتقى الأبحر، كتاب اللقطة، ج:1،ص:529)

وبعد إظهار التعريف إن جاء صاحبها دفعها إليه لحصول المقصود بالتعريف، وإن لم يجئ فهو بالخيار إن شاء أمسكها حتى يجيء صاحبها، وإن شاء تصدق بها. فإن تصدق بها ثم جاء صاحبها فهو بالخيار إن شاء أجاز الصدقة ويكون له ثوابها وإن شاء اختار الضمان وإن كان الملتقط محتاجا فله أن يصرفها إلى حاجة نفسه بعد التعريف. (المبسوط للسرخسي، كتاب اللقيط، ج:11، ص:7)

ولا يتصدق باللقطة  على غني ،لأن المأمور هوالتصدق لقوله عليه السلام: فإن لم يأت صاحبها  فليتصدق بها، والصدقة لا يكون على غني فأشبه الصدقة المفروضة. (الهداية، كتاب اللقطة، ج:2، ص:273)


فتویٰ نمبر : 6421/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں