بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

میروالا میں نمازجمعہ کا حکم


سوال

ایک بڑا قصبہ ارائیں واہن جس میں چار جگہ جمعہ ہوتا ہے۔ اس کے جنوبی کنارے سے متصل قبرستان ہے جس کی دیوار سے 10ایکڑ کے فاصلے پر 20سے 25گھروں پر مشتمل دوسری چھوٹی آبادی ہے جس کانام میروالا ہے وہاں کے باشندوں نے ایک بڑی مسجد تعمیرکی ہے میروالا کی نئی مسجد میں جمعہ جائز ہے یا نہیں؟ نوٹ: 10ایکڑ کے فاصلے میں چارایکڑ کے بعد ایک ایکڑ پر محیط بڑی رہائشی کوٹھی ہے۔اس کے پیچھے پانچ چھ گھر بھی ہیں کوٹھی سے 5ایکڑ کے فاصلے میروالا کی مسجد ہے ۔ ایک کوٹھی جس کا تذکرہ کیا ہے مین روڈ پر ہے آرائیں واہن سے کوٹھی تک اور کوٹھی سے دوسری نئی مسجد تک درمیان میں کاشتکاری کے لیے کھیت ہیں۔

جواب

 نماز جمعہ کے وجوب کے لیے دیگر شرائط کے علاوہ اس علاقے کا مصر، فنائے مصر،یاقریہ کبیرہ کا ہونا بھی ہے فنائے مصر یا مضافات کے بارے میں عرف کو مدار بنایا جائے گا ، لہذا شہر کے لوگ جن لوگوں کے ساتھ غمی خوشی میں شریک ہوں اور اس جگہ کے لوگ اپنی ضروریات اسی شہر یا قریہ کبیرہ سے پورے کرتے ہوں اور ان کی نسبت اسی شہر یا قریہ کبیرہ کی طرف ہوتی ہو تو یہ لوگ اسی شہر کے مضافاتی کہلائیں گےاگر چہ ان کے درمیان زرعی يا خالی زمین واقع ہو اور جو علاقے عرف میں شہر یا قریہ کبیرہ کے مضافات  كی بجائے مستقل بستیاں یا گاؤں شمار ہوتے ہوں اور ان میں شرائط جمعہ موجود نہ ہوں تو وہاں جمعہ پڑھنا جائز نہ ہوگا۔

 صورت مسٔولہ میں اگر مذکورہ قریہ کبیرہ (ارائیں واہن)کے اطراف میں واقع(میر والا) کی آبادی عرف میں اسی قصبہ کبیرہ کے مضافات شمار ہوتے ہوں اس طور پر کہ ان کی غمی خوشی شریک ہواوروہاں کے لوگ اپنی ضروریات اسی قریہ کبیرہ سے پوری کرتے ہوں،تو پھر یہ قریہ کبیرہ کے مضافات اور توابع  کے حکم میں ہوں گے اوروہاں نمازجمعہ شروع کرنا صحیح ہوگا،لیکن اگریہ جگہ عرف میں قریہ کبیرہ کے مضافات شمار نہ ہوتی ہو بلکہ اسے الگ بستی یا گاؤں شمارکیا جاتا ہو،تو پھروہاں نماز جمعہ شروع کرنا جائزنہ ہوگا بہتر ہوگا کہ علاقہ کے معتبرعلماء ومفتیان حضرات سے اس بارے میں حکم معلوم کیا جائے،کیونکہ وہ وہاں کے عرف سے خوب واقف ہوں گے۔

 

لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها۔ ( بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل في بيان شرائط الجمعة، ج:1، ص:259)

وعبارة القهستاني تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق۔ (رد المحتار، كتاب الصلاة،باب الجمعة،ج:2، ص:138)

ومن كان مقيما بموضع بينه وبين المصر فرجة من المزارع والمراعي نحو القلع ببخارى لا جمعة على أهل ذلك الموضع وإن كان النداء يبلغهم والغلوة والميل والأميال ليس بشيء هكذا في الخلاصة. (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب السادس عشر في صلاة الجمعة، ج:1، ص:145)


فتویٰ نمبر : 10713/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں