بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کرنسی قسطوارفروخت کرنے کی صورت میں عام بازاری قیمت سے زیادہ پر فروخت کرنا


سوال

آج کل بازار میں یہ ایک عام دستور ہے کہ کوئی کرنسی (مثلا: یوآن)فروخت کرنے والا فروخت کرتے وقت یہ کہتا ہے کہ اگر آپ اس کو ادھار یعنی چندمتعین ہفتوں یا متعین مہینوں کی مدت پر خریدو گےاور قسطوار روپے دو گے تو آپ کو یہ کرنسی عام بازاری قیمت سے تین چار روپے مہنگی ملے گی۔اور پھر وہ باہمی رضامندی سے اس کی قیمت اور مدت متعین کرتے ہیں۔اب چاہے خریدنے والا متعین مدت سے پہلے روپے دےدے اور یا اس کے بعد، لیکن اس پر وہی متعین قیمت  لازم ہوگی جوعقد کرتے وقت طے ہوئی تھی۔تو کیا کسی کرنسی کی اس طرح بیع و شراء از روئے شریعت جائز ہے یا نہیں؟نیز یہ تو سود کے زمرے میں تونہیں آتا؟

جواب

واضح رہے کہ مختلف ملکوں کی کرنسیاں الگ الگ جنس شمار  ہوتی ہیں ،لہذا تبادلہ کی صورت میں جنس و قدر کے اختلاف کی وجہ سے تفاضل اور ادھار دونوں جائز ہیں،تاہم احد البدلین پر مجلسِ عقد میں قبضہ کرنا ضروری ہوگا۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق کسی کرنسی کا دوسری کرنسی سے ادھار تبادلہ کرتے ہوئے عام بازاری قیمت سے  زیادہ قیمت  پرفروخت کرنا جائز ہے، بشرطیکہ ایک کرنسی پر مجلس عقد میں ہی قبضہ ہوجائےاور ادائیگی کی لیے مدت مقرر ہو،نیز تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ لاگو نہ کیا جائے،یہ سود کے زمرے میں نہیں آتا۔

 

‌ وإن باع الذهب بالفضة جاز التفاضل؛لعدم المجانسة،ووجب التقابض،لقوله عليه الصلاة والسلام:"الذهب بالورق ربا إلا هاء وهاء"،فإن افترقا في الصرف قبل قبض العوضين أو أحدهما بطل العقد؛لفوات الشرط وهو القبض.(الهداية،كتاب الصرف، ج:3،ص:81)

باع فلوسا بمثلها او بدراهم او بدنانير فان نقد احدهماجاز وان تفرقا بلا قبض احدهما لم يجز.(ردالمحتارعلى الدرالمختار،باب الربا،ج:5،ص:179)

(‌وإلا)‌بأن ‌لم ‌يتجانسا (شرط التقابض) لحرمة النساء(فلو باع)النقدين(أحدهما بالآخر جزافا أو بفضل وتقابضا فيه)أي المجلس (صح، و)العوضان(لا يتعينان)حتى لو استقرضا فأديا قبل افتراقهما أو أمسكا ما أشار إليه في العقد وأديا مثلهما جاز.(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب البيوع،باب الصرف،ج:5،ص:258)


فتویٰ نمبر : 3909/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں