بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

پانچ بیٹوں اور دو بیٹیوں کے درمیان تقسیم میراث


سوال

ایک عورت کا انتقال ہوا ہے اس کے ورثامیں پانچ بیٹے اوردو بیٹیاں ہیں ۔اب مرحومہ کا ترکہ مذکورہ ورثامیں کس طرح تقسیم ہوگا؟

جواب

میــــــــــــــــ(12)ــــــــــــــــــت

بیٹا    بیٹا    بیٹا     بیٹا    بیٹا     بیٹی     بیٹی

2     2      2       2     2       1       1

بشرط ِصدق وثبوت اگرمرحومہ کے مذکورہ بالا ورثاکے علاوہ اور کوئی قریبی وارث زندہ موجودنہ ہو تو بعد از ادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحومہ کا ترکہ بارہ (12)حصوں میں  تقسیم ہوکربیٹوں میں سےہر ایک کو2/12حصے، اوربیٹیوں میں سےہرایک   کو1/12حصہ ملے گا۔

 

قال اللّٰه تعالىٰ:﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾(النساء:11)


فتویٰ نمبر : 3765/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں