بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

امام کو لقمہ دینے کا حکم


سوال

مسئلہ یہ ہے کہ امام صاحب قعدۂ اولیٰ میں بہت دیر تک بیٹھے رہے مقتدی نے لقمہ دےدیاامام صاحب نے لقمہ لے بھی لیا بعد نماز ایک مولوی صاحب نے کہا لقمہ دینے والے کی نماز نہیں ہوئی کیا مسئلہ یہی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مقتدی کے لیے امام کو لقمہ دینے (غلطی بتانے)  میں جلدی کرنا مکروہ ہے ، اسی طرح امام کے لیے مقتدی کی راہ نمائی اور لقمہ کا انتظار کرنا بھی مکروہ ہے،  مقتدیوں کو چاہیے کہ جب تک لقمہ دینے کی شدید ضرورت نہ ہو امام کو لقمہ نہ دیا کریں۔لہذا صورت مسئولہ میں جب امام صاحب بہت دیر تک قعدہ میں بیٹھے رہے اورمقتدی یہی سمجھے کہ امام صاحب بھول گئے ہیں ، اوراس کو قعدہ اخیرہ سمجھ رہے ہیں تو اس صورت میں   مقتدی کا امام کو لقمہ دینا اور امام کا لقمہ قبول کرنا درست ہے، اس سے کسی کی نماز فاسد نہیں ہوئی ۔

 

ويكره للمقتدي أن يفتح على إمامه من ساعته لجواز أن يتذكر من ساعته فيصير قارئا خلف الإمام من غير حاجة. كذا في محيط السرخسي ولا ينبغي للإمام أن يلجئهم إلى الفتح؛ لأنه يلجئهم إلى القراءة خلفه وإنه مكروه بل يركع إن قرأ قدر ما تجوز به الصلاة وإلا ينتقل إلى آية أخرى. كذا في الكافي وتفسير الإلجاء أن يردد الآية أو يقف ساكتا. كذا في النهاية.(الفتاوى الهندية،کتاب الصلاۃ،الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ ومایکرہ فیها ج: 1 ص: 99)


فتویٰ نمبر : 10704/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں