بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

شیر خوار بچے کی وجہ سے حمل ساقط کرنا


سوال

ایک عورت کی گود میں چار ماہ کا بچہ ہے اور وہ اب دوبارہ حاملہ ہوگئی ہے، دوسرے حمل کےتقریبا پچاس (50) دن ہوچکے ہیں۔ تو کیا بچے کی صحت کی خاطراس کو ساقط کرسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ نے انسانی جان کے تحفظ واحترام کی خاطراس کے ناحق قتل کو حرام قرار دیا ہے، خواہ وہ ماں کے پیٹ میں موجود جنین ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ جب ایک مرتبہ حمل ٹھہر جائے تو اس کو ساقط کرنا شرعا جائز نہیں، اور کوئی ایسی مدت نہیں جس میں بلاعذر حمل ضائع کردینا درست ہو۔ تاہم شرعی طور پر کوئی معتبرعذر ہو تو روح پڑجانے سے پہلے (جس کی مدت چار ماہ ہے) اسقاط کی گنجائش ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر حمل کی وجہ سے واقعی بچےکی صحت کو نقصان ہو اور ماں کا دودھ خشک ہونے کی صورت میں بچے کے والد کی اتنی وسعت نہ ہو کہ اس کو دودھ پلانے کے لیے متبادل بندوبست کرسکے، اور حمل چار ماہ سے کم ہو تو اسقاط کی گنجائش ہے، البتہ چار ماہ بعد اس کی اجازت نہیں۔

 

قال الله تعالى: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ﴾. (النساء:151)

امرأة مرضعة ظهر بها حبل وانقطع لبنها وتخاف على ولدها الهلاك وليس لأبي هذا الولد سعة حتى يستأجر الظئر يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم يخلق له عضو وخلقه لا يستبين إلا بعد مائة وعشرين يوما. (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات، ج:5،ص:412)


فتویٰ نمبر : 6419/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں