بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

ہیٹرکے سامنے نماز پڑھنا


سوال

مساجد میں پہلی صف کے آگےجو  ہیٹر پڑے ہوتے ہیں۔ اکثران کو نمازکے دوران لگاتے ہیں اوران میں آگ ہوتا ہے توکیا اس ہیٹرکی طرف سجدہ کرنا جائزہے؟

جواب

واضح رہے کہ جو ہیٹرمساجد میں رکھے جاتے ہیں، وہ مسجد گرم رکھنے کے لیے لگائے جاتےہیں، اس کی عبادت مقصود نہیں ہوتی، لہذا اس کے سامنے نمازپڑھنا اورسجدہ کرنا جائز ہے، اس سے نمازپرکوئی فرق نہیں پڑتا، اس لیے کہ یہاں آگ کی عبادت اوراس کے سامنے جھکنا مقصود نہیں۔تاہم جہاں لوگ تشویش میں مبتلا ہوتے ہوں وہاں بہتر یہ ہے کہ اس کو قبلہ کی جانب نہ رکھا جائے یا آدمی کے قد سے بلند جگہ پر رکھا جائے۔

 

(و) لا إلى (مصحف أو سيف مطلقا أو شمع أو سراج أو نار توقد) ، لأن المجوس إنما تعبد الجمر لا النار الموقدة.وقال ابن عابدين تحته:وعدم الكراهة هو المختار كما في غاية البيان...الصحيح أنه لا يكره أن يصلي وبين يديه شمع أو سراج لأنه لم يعبدهما أحد والمجوس يعبدون الجمر لا النار الموقدة.(الدرالمختار مع رد المحتار،كتاب الصلاة،باب ما يفسد الصلاة و ما يكره فيها،مطلب الكلام على اتخاذ المسبحة،ج:2،ص:423)

ومن توجه في صلاته إلى تنور فيه نار تتوقد أو كانون فيه نار يكره ولو توجه إلى قنديل أو إلى سراج لم يكره كذا في محيط السرخسي وهو الأصح.(الفتاوى الهندية،کتاب الصلاة،الباب السابع،الفصل الثانی فیما یکره في الصلوۃ ومالایکره،ج:1، ص:167)


فتویٰ نمبر : 6420/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں