بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مہرمیں لڑکی کا عمرہ کرانے کا شرط لگانا


سوال

میری بیٹی یہ کہتی ہے کہ مجھے مہرمیں ایک عمرہ کرایا جائے، تو کیا ایسا مہر قابل قبول ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نکاح میں لڑکی کا ایسا شرط لگانا کہ مجھے حج یا عمرہ کرایا جائے ٹھیک نہیں بلکہ اس صورت میں مہرمثل لازم ہوگا، البتہ عمرے کا جتنا خرچہ ہواگراتنی رقم مہربنایا جائےتویہ درست ہے۔

صورت مسئولہ میں سائل کی بیٹی کا یہ شرط لگانا کہ مجھے ایک عمرہ کرایا جائے، ٹھیک نہیں بلکہ ایک عمرے کا خرچہ مثلاً تین لاکھ روپے مہر مقرر کیا جائے، پھراس رقم سے چاہے توعمرہ کا سفرکرے۔

 

وأشار المصنف إلى أنه لو تزوجها على أن يحج بها وجب مهر المثل لكن فرق في الخانية بين أن يتزوجها على أن يحج بها وبين أن يتزوجها على حجة فأوجب في الأول مهر المثل وفي الثاني قيمة حجة وسط. ( البحرالرائق شرح کنز الدقائق، کتا ب النکاح، باب المهر، ج:3، ص:168)

و لو تزوج امرأة على طلاق امرأة له أخرى أو على دم عمد له عليها أوعلى أن يحج بها؛ كان لها مهر مثلها۔ (الفتاوى الهندية، كتاب النكاح، الباب السابع في المهر، الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر والمتعة،ج:1، ص:303)


فتویٰ نمبر : 7249/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں