بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عیب بتائے بغیرموبائل بیچنا


سوال

ہماری صدر بازار پشاورمیں موبائلوں کی دوکان ہے جس میں ہم نئے اور پرانےآئی فون موبائل بیچتےاورخریدتے ہیں ہمیں اپنےکاروبارکے حوالے سے شرعی رہنمائی درکارہے: 1۔جب ہم پرانے آئی فون موبائل خریدتےہیں توبعض اوقات اس کا کیمرایا سکرین خراب ہوتاہے یا اس کا  water resistant خراب ہوتا ہےیا  بیٹری کی Health کم ہوتی ہے توہم اس کے کیمرے،سکرین اور water resistant کی ایسی ریپیئرنگ کرتے ہیں کہ وہ اصل موبائل کی طرح کام کرتا ہے اسی طرح اس میںbattery strip  لگا کراس کیhealth  بڑھا دیتے ہیں۔ان صورتوں میں جب  کسٹمرہم سے پوچھتا ہےکہ اس کی سکرین،کیمرا،بیٹری وغیرہ کی ریپیئرنگ ہوئی ہے یا اپنی اصل حالت میں ہے توہم کہتے ہیں کہ نہیں یہ اپنی اصل حالت میں ہےاور کبھی کسٹمر ہم سے پوچھے بغیروہ موبائل لے جاتاہے نہ ہی وہ اس کی ریپیئرنگ کے بارے میں پوچھتاہےاورنہ ہی ہم اس کواس حوالے سے کچھ کہتے ہیں شرعاًہمارا کسٹمر کےساتھ یہ معاملہ کیسا ہے؟  2۔اسی طرح چائینہ،ہانگ کانگ اور دیگر ممالک سے پاکستان کوایسی آئی فون موبائلیں آتی ہیں جن کے بورڈ پرانے ہوتےہے لیکن اس کی سکرین بیٹری وغیرہ نئی ہوتی ہیں صرف بورڈ پرانا ہوتا ہےاس صورت میں جب کسٹمرہم سے پوچھتے ہیں کہ یہ موبائل نئی ہےتو ہم اس سے کہتے ہیں کہ یہ موبائل چائنہ اور ہانک کانگ میں بنتا ہے لیکن ان کو یہ نہیں بتاتے کہ اس کا بورڈ پرانا ہے۔ شرعاً ہمارا یہ کا م کیسا ہے اوراس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کیا حکم ہے؟

جواب

جاننا چاہیے کہ مبیع میں موجود ہرایسا نقص جس سے تجارکے ہاں مبیع کی قیمت گھٹتی ہووہ شرعاًعیب کہلاتاہےلہذا شرعاً معاملہ کرتے وقت   بائع (بیچنے والے) پریہ لازم ہے کہ وہ خریدار کومبیع(سودے) میں موجود عیوب سے خبردارکرے ۔ چنانچہ معاملہ کرتےوقت مبیع میں موجود عیوب  چھپانا دھوکہ دہی ہے جو کہ شرعاً ناجائز ہے۔

1۔صورت مسؤلہ کے مطابق کسٹمر کے پوچھنے کے باوجود موبائل کےعیوب چھپا کربیچنا شرعاًدھوکہ دہی ہے جوکہ ناجائز ہے اوراس سے حاصل ہونے والامنافع بھی شرعاً ناجائز ہےاسی طرح کسٹمر کے پوچھے بغیراگرریپئرشدہ موبائل کواصل موبائل( جس میں کسی طرح کی ریپیئرنگ نہیں ہوئی ہو)  کی قیمت پربیچاجاتاہوتو یہ بھی دھوکہ دہی کی وجہ سے ناجائزہوگا کیونکہ اس صورت میں کسٹمر کواصل موبائل کی قیمت پرریپئرشدہ موبائل مل رہاہےجوکہ عیب ہےاوردکانداراس کو چھپا رہاہے لیکن اگر کسٹمرکے پوچھے بغیراس کوریپئرشدہ موبائل کی قیمت پر دیا جارہاہواورعیب واضح نہ کیا جائے توشرعاً اس کی گنجائش ہوگی تاہم اگر کسٹمربعد میں اس کو واپس کرنا چاہےتواس کوخیارعیب حاصل ہوگا۔

2۔ چائنہ،ہانگ کانگ سے آئے ہوئے موبائلوں کے بارے میں یہ کہنا کا فی ہے کہ چائنہ اور ہانگ کانگ کے بنائےآئی فون ہیں اس میں یہ بتانا ضروری نہیں کہ اس کے بورڈ پرانے ماڈل کے ہیں۔

 

كتمان عيب السلعة حرام وفي البزازية وفي الفتاوى إذا باع سلعة معيبة عليه البيان وإن لم يبين قال بعض مشايخنا يفسق وترد شهادته قال الصدر لا نأخذ به.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق،ج:6،ص:38)

لا يحل ‌كتمان ‌العيب في مبيع أو ثمن؛ لأن الغش حرام.(ردالمحتار على الدر المختار،ج:5،ص:47)

رجل أراد أن يبيع ‌السلعة ‌المعيبة وهو يعلم يجب أن يبينها فلو لم يبين قال بعض مشايخنا يصير فاسقا مردود الشهادة.(الفتاوى الهندية،ج:3،ص:210)

وكل ما أوجب نقصان الثمن في عادة التجار فهو عيب"؛ لأن التضرر بنقصان المالية، وذلك بانتقاص القيمة والمرجع في معرفته عرف أهله.(الهداية في شرح بداية المبتدي،ج:3،ص:37)


فتویٰ نمبر : 3906/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں