بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تصویربنانے والے کی کمائی


سوال

کیا فوٹوگرافر( کیمرہ مین) کی کمائی جائز ہے یا ناجائز؟

جواب

واضح رہے کہ احادیث مبارکہ میں جاندار کی تصویر بنانے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے سخت عذاب تصویر بنانے والوں کو دیا جائے گا، اسی بنیاد پر فقہائے کرام نے جاندار کی تصویریں بنانا اور بنوانا ناجائز و حرام قراردیا ہے، تاہم اگرکسی شدید ضرورت کے لیے تصویر بنوانا  ہو، تو ایسی صورت میں شرعاً اس کی گنجائش ہے، اس لیے مجبوری کی حالت میں تصویر بنانے یا بنوانے پر گناہ نہیں ہوگا۔

لہٰذاصورت مسئولہ میں اگرضرورت کے مقامات مثلًا: پاسپورٹ یا شناختی کارڈ وغیرہ کےدفتر میں کیمرہ مین کام کرےتو اس کی آمدنی حلال ہو گی لیکن  ضرورت کے بغیر محض لہو لعب کے طور پر تصاویراورویڈیوزبنانے کو ذریعہ معاش بنانا جائزنہیں، اس سے احترازضروری ہے ۔

 

حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا الأعمش، عن مسلم، قال: كنا مع مسروق، في دار يسار بن نمير، فرأى في صفته تماثيل، فقال: سمعت عبد الله، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: إن أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة المصورون. (الصحيح للبخاري، باب عذاب المصورين يوم القيمة، رقم الحديث:5950، ج:2، ص:449)

(ولا يجوز الاستئجار على سائر الملاهي لأنه استئجار على المعصية والمعصية لا تستحق بالعقد) فإنه لو استحقت به لكان وجوب ما يستحق المرء به عقابا مضافا إلى الشرع وهو باطل. (العناية شرح الهداية، باب الإجارة الفاسدة، ج:9، ص:98)

الضرورات تبيح المحظورات،ومن ثم جاز أكل الميتة عند المخمصة. (الأشباه واالنظائر، ج:1، ص:73)


فتویٰ نمبر : 6416/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں