بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

غیر وارث کو اپنا پورا مال ہبہ کرنا


سوال

ایک شخص (محاذ خان) اپنے والد کی زندگی میں فوت ہو گیا، پھر کچھ عرصہ بعد والد کا انتقال ہو گیا، والد کے ورثاء  بیوہ، بیٹے، بیٹیوں کے درمیان شرعی اصولوں کے مطابق میراث تقسیم ہو گئی، اب (محاذ) کا ایک بھائی (جس کی عمر 56 سال ہے اوراب تک شادی نہیں کی ہے اورنہ آئندہ کرنے کا ارادہ ہے) اپنی زندگی میں اپنے میراث کے حصے کواپنے اس مرحوم بھائی کی بیوہ اوراولاد کو ہبہ کرنا چاہتا ہے، تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں، خاص طور پر مرض وفات سے پہلے، اپنے مال میں ہرجائز تصرف کا حق حاصل ہے، اورایک تہائی مال میں وصیت کا حق بھی حاصل ہے ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شخص اپنا حصہ اس بھائی  کی اولاد اور بیوہ کو دینا چاہتاہو، جواپنے والد کی زندگی میں وفات پاچکا ہو، تویہ شرعاً جائزہے، البتہ مکمل قبضہ اورتصرف بھی دے دے کیونکہ قبضہ کے بغیرہبہ کرنا شرعاًکافی نہیں ہوتا ۔

 

ليس له حق الرجوع بعد التسليم في ذي الرحم المحرم وفيما سوى ذلك له حق الرجوع إلا أن بعد التسليم لا ينفرد الواهب بالرجوع بل يحتاج فيه إلى القضاء أو الرضا. (الفتاوى الهندية، كتاب الهبة، الباب الخامس في الرجوع في الهبة، ج:4،ص:385)

لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية. (الفتاوى الهندية، الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز، ج:4، ص:378)


فتویٰ نمبر : 6415/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں