بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عورتوں کا تعلیم کے لیے بیرون ممالک جانا


سوال

کیا لڑکیاں بغیر محرم کے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے بیرون ممالک جاسکتی ہیں یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ نے عورت کو اڑتالیس میل یعنی ( 78 کلو میٹر )یا اس سے زیادہ کی مسافت پر بغیر محرم یا بغیر شوہر کے سفر کرنے کی اجازت نہیں دی ہے،  حتی کہ اگر کسی عورت پر حج کی فرضیت کی تمام شرائط بھی پوری ہوجائیں، لیکن اس کے ساتھ  حج پر جانے والا کوئی محرم یا شوہر موجود نہ ہو، تو اس پر حج ادا کرنا فرض نہیں ہوتا، چہ جائیکہ  تعلیم حاصل کرنے کے لیے عورت کو بغیر محرم کےسفر کرنے کی شرعاً اجازت ہو، البتہ سفر شرعی  سے کم مسافت  میں اگر فتنہ کا خوف نہ ہو تو  بغیر محرم کے سفر کی گنجائش ہے۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق   تعلیم کے حصول کے لیے  خواتین کا بغیر محرم کےبیرون ممالک سفر کر نا جائز نہیں ۔

 

عن ابن عباس رضي الله عنهما: أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «‌لا ‌يخلون ‌رجل ‌بامرأة ‌ولا ‌تسافرن ‌امرأة ‌إلا ‌ومعها ‌محرم ‌فقام ‌رجل فقال: يا رسول الله اكتتبت في غزوة كذا وكذا وخرجت امرأتي حاجة قال: اذهب فحج مع امرأتك.»(صحيح البخاري،باب من اکتتب فی جیش فخرجت امرأته حاجة،ج:4،ص:59،رقم الحدیث:3006)

عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « ‌لا ‌يحل ‌لامرأة ‌تؤمن ‌بالله ‌واليوم الآخر أن تسافر سفرا يكون ثلاثة أيام فصاعدا إلا ومعها أبوها، أو ابنها، أو زوجها، أو أخوها، أو ذو محرم منها ». (صحيح مسلم،باب سفرالمرأۃمع محرم إلی حج وغیرھا،ج:4،ص:103،رقم الحدیث:1


فتویٰ نمبر : 6418/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں