بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

امتحانات میں نقل کر کے پاس ہونا اور اس سے حاصل شدہ ڈگری کی بنیاد پر ملازمت کا حکم


سوال

آج کل طلباء سکول /کالج میں پڑھتے ہیں ، امتحانات میں نقل کرکے  ڈگریاں حاصل کرتےہیں اورپھر ان ہی ڈگریوں پر نوکریاں کرتے ہیں، تو ایسی نوکریوں پر تنخواہ لینا کیسا ہے؟

جواب

وضح رہے کہ امتحانات میں نقل کرنا  جھوٹ، خیانت، دھوکا دہی، فریب اور حق داروں کی  حق تلفی جیسے گناہوں پر مشتمل ہونے  کی وجہ سے ناجائز ہے، لہذا  امتحانات میں نقل کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ اس پر توبہ واستغفار کرنالازم ہے۔

البتہ اگر کسی نے اس طرح ڈگری حاصل کرےاس سے  ملازمت  حاصل کرلی ہو توتنخواہ کے  حلال یا حرام ہونے سے متعلق  یہ اصول ہے کہ اگر یہ  شخص   متعلقہ ملازمت اور نوکری کی صلاحیت رکھتا  ہو اور اس کے تمام امور دیانت داری کے ساتھ انجام دیتا  ہو تو اس کی تنخواہ حلال ہوگی، اس لیے کہ تنخواہ کے حلال ہونے کا تعلق فرائض کی درست ادائیگی سے  ہے، اور اگر   وہ شخص  اس ملازمت  اور نوکری کا اہل ہی نہیں ہو، یا اہل تو ہومگر دیانت داری کے ساتھ کام نہ کرتا ہو تو اس کی تنخواہ حلال نہ ہوگی۔

 

‌فالكذب ‌الإخبار ‌على ‌خلاف ‌الواقع، ‌وحق ‌الأمانة أن تؤدى إلى أهلها، فالخيانة مخالفة لها.(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ،باب الکبائر وعلامات النفاق،ج:1،ص:126)

‌الأجرة ‌تستحق ‌بأحد ‌معان ‌ثلاثة ‌إما ‌بشرط ‌التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها.(الفتاوى الهندية،الباب الثانی متی تجب الأجرۃومایتعلق به من الملک وغیرہ،ج:4،ص:413)


فتویٰ نمبر : 6417/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں