بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شیعہ کی اقتدا میں نماز پڑھنا


سوال

ہماری مسجد کے امام صاحب کبھی کبھار موجود نہیں ہوتے، تو ان کی جگہ مسجد کے مؤذن، جو کہ شیعہ ہیں، نماز پڑھاتے ہیں۔ کیا ان کی اقتدا میں ہماری نماز درست ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شیعہ حضرات میں سے جن لوگوں کے کلمۂ اسلام اور اساسِ اسلام  ایسے ہوں کہ وہ قرآنِ کریم کو غیر محفوظ اور محرف کتاب کہتے ہوں، اللہ تعالیٰ کے لیے بدأ  کا عقیدہ رکھتے ہوں، وحی الٰہی میں بایں معنی غلطی کے صدور کا عقیدہ رکھتے ہوں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بجائے غلطی سے حضور ﷺ کے پاس وحی پہنچادی، نیز حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صحابیت اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت کے قرآنی حکم کے برعکس عقیدہ اپنا رکھا ہو، نیز جو لوگ شیعیت کے لبادے میں الوھیتِ علی رضی اللہ عنہ کا شرکیہ عقیدہ رکھتے ہوں اور مخصوص عقیدہ امامت کی آڑ میں نبوت کے ثبوت اور ختمِ نبوت کے انکار اور صحابہ کو گالیاں دینےکی فکر کے حامل ہوں، تو ایسے آدمی کی اقتدا میں نماز پڑھنا صحیح نہیں۔ اور اگر شیعہ غالی نہ ہو صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کاابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پرفضیلت کےقائل ہوتب بھی احتیاط لازم ہے کیونکہ عقیدہ امرِ مخفی ہے۔

لہٰذا صورت مسئولہ کےمطابق اگر امام صاحب خود موجود نہ ہو اور یا امام صاحب کی غیر موجودگی میں نیک متشرع با اسلام نائب بھی نہ ہو تو دوسری جگہ قریب مسجد میں جہاں نیک متشرع بااسلام امام ہو وہاں نماز پڑھے۔ ورنہ شیعہ کی اقتدا میں نماز پڑھنے کے بجائے علیحدہ یعنی انفرادی طورپر نماز پڑھنا بہتر ہے۔

 

(قوله وإنكاره صحبة الصديق) لما فيه من تكذيب قوله تعالى - {إذ يقول لصاحبه} [التوبة: 40]-ومن أنكر خلافة الصديق أو عمر فهو كافر ا هـ ولعل المراد إنكار استحقاقهما الخلافة، فهو مخالف لإجماع الصحابة لا إنكار وجودها لهما بحر. وينبغي تقييد الكفر بإنكار الخلافة بما إذا لم يكن عن شبهة كما مر عن شرح المنية، بخلاف إنكار صحبة الصديق تأمل۔(ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:561-562 )

"وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر؛ لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل علياً أو يسب الصحابة؛ فإنه مبتدع لا كافر، كما أوضحته في كتابي ’’تنبيه الولاة والحكام عامة أحكام شاتم خير الأنام أو أحد الصحابة الكرام عليه وعليهم الصلاة والسلام." (رد المحتار علی الدر المختار، كتاب النكاح، فروع طلق امرأته....ج:3، ص:46)


فتویٰ نمبر : 10691/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں