بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

بیٹی کے لیے پلاٹ کی وصیت کرنا


سوال

میرے تایا جو کہ ایک بڑے بزنس مین تھے جن کے چار بیٹے تین بیٹیاں اور ایک اہلیہ ہیں، سب سے بڑی بیٹی کی شادی 1998 میں کی اور 2007 میں بیٹی کو ایک پلاٹ دلایا دوسری بیٹی کی شادی 2002 میں کی اور 2016 میں دوسری بیٹی کو ایک بنگلہ دلایا گیا تیسری بیٹی کی شادی 2010 میں کی اور 2018 میں اسے ایک جگہ دلانے کے لیے دکھائی جو کہ بیٹی کو پسند نہیں آئی لہذا خود والد بھی کسی اچھی جگہ کی تلاش میں رہے اور بیٹوں کو بھی تلاش کی ہدایت کی اسی دوران بیمار رہنے لگے اور بیٹوں کو کئی مرتبہ ہدایت کی کہ سب سے چھوٹی بیٹی صائمہ کو میرے مال میں سے ایک کروڑ تک کا مکان یا پلاٹ دلانا ہے جس پر تمام بیٹوں نے لبیک کہا بلکہ انتقال سے ایک دن پہلے بھی بیٹوں کو ہدایت کی اور بیٹوں نے ذمہ داری بھی اٹھائی اور دوسرے دن انتقال کر گئے اب مرحوم کی اہلیہ اور تمام بیٹے اس وصیت یا ارادے کے گواہ ہیں ایسے میں وصیت معتبر رہے گی یا نہیں؟

جواب

اگر کسی شخص نے اپنے کسی وارث کے لیے وصیت کی ہو تو وارث کے حق میں  کی جانے والی  وصیت دیگر  ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوگی، اگر دیگر ورثاء بالغ ہوں اور انہوں نے اس وصیت کے نفاذ کی اجازت دے دی تو اسے نافذ کیا جائے گا، اور جس کے لیے وصیت کی گئی ہے اس کو وصیت کے علاوہ میراث میں سے شرعی حصہ بھی ملے گا۔ اور اگر بعض بالغ ورثاء وصیت کے نفاذ کی اجازت دے دیں تو ان کے حصے کے بقدر نافذ ہوگی، جب کہ نابالغ ورثاء کو ان کا حصہ پورا دیا جائے گا،اگر اجازت دیں تب بھی نابالغ کی اجازت کا اعتبار نہیں ہو گا، اور اگر ورثاء راضی نہ ہوں تو اس صورت میں وارث کو صرف اس کا بطورِ میراث متعین حصہ ملے گا، اس وصیت پر عمل نہیں کیا جائے گا۔

صورت مسئولہ میں جس بیٹی کے لیے والد نے پلاٹ خریدنے کی وصیت کی تھی تو یہ بیٹی ان پیسوں کی مالک نہیں بنی بلکہ یہ رقم بھی والد کے دیگر ترکہ کےساتھ تمام ورثاء میں تقسیم ہوگی البتہ اگر تمام ورثاء بالغ ہوں اور اپنی رضامندی سے والد کی اس وصیت کو پورا کرنا چاہیں تو اس وصیت پر عمل کرتے ہوئے والد کے ترکہ میں پہلے بیٹی کے لیے مکان یا پلاٹ خرید کر پھر ترکہ کو میراث کے اصول کے مطابق تقسیم کریں۔

 

ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين و لاتجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية ... ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة۔ (الفتاوى الهندية، کتاب الوصایا وفیہ عشرۃ أبواب، ج:6، ص:90)

(ولا لوارثه وقاتله مباشرة) (إلا بإجازة ورثته) لقوله عليه الصلاة والسلام: «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث وسنحققه (وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون وإجازة المريض كابتداء وصية ولو أجاز البعض ورد البعض جاز على المجيز بقدر حصته." (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الوصایا، ج:6، ص: 655/656)


فتویٰ نمبر : 3781/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں