بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

آٹھ سال کی بچی کے ساتھ زنا سے حرمتِ مصاہرت


سوال

زید نے اپنی حقیقی نواسی(جسکی عمر اس وقت آٹھ سال تھی) کے ساتھ زنا کیا اور پھر اسی نواسی کے ساتھ زید کے پوتے بکر کا نکاح ہو گیا زید مر چکا ہے اور ابھی نکاح کا سال گزرنے کے بعد بکر کی بیوی نے بکر کو بتایا کہ آپکے دادا زید نے میرے ساتھ زنا کیا تھا لیکن میں اس وقت بہت چھوٹی تھی اور وہ میرے ساتھ دو مرتبہ یہ حرکت کر چکا ہے اب حل طلب امور مندرجہ ذیل ہیں: نمبر1: کیا زید کا اپنی نواسی کے ساتھ زنا کرنا حرمت مصاہرت کو ثابت کرتا ہے جبکہ نواسی کی عمر آٹھ سال تھی اور وہ  نابالغہ تھی ؟ نمبر2: اس نکاح کا کیا حکم ہے؟

جواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی عورت کے ساتھ زنا کرلینے سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے، اور حرمتِ مصاہرت کی وجہ سے زانی اور مزنیہ دونوں کے لیے ایک دوسرے کے اصول وفروع  ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس حرمت کے ثبوت کے لیے شرط یہ ہے کہ مزنیہ(جس لڑکی کے ساتھ زنا کی گئی ہو) محلِ شہوت ہو۔ جس کی کم ازکم  عمر مفتیٰ بہ قول کے مطابق نو سال ہے، لہٰذانو سال سے کم عمر کی لڑکی چونکہ محلِ شہوت نہیں ہوتی، اس لیے اس کے ساتھ زنا کر لینے سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوتی۔

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی حسبِ سوال زید نے اپنی حقیقی نواسی کے ساتھ زنا کیا تھا، لیکن زنا کے وقت اس لڑکی کی عمرآٹھ سال تھی، توچونکہ وہ محلِ شہوت نہیں تھی، اس لیے حرمت مصاہرت ثابت نہیں، لہٰذا زید کے پوتے بکر کا اس لڑکی کے ساتھ نکاح صحیح ہے۔

 

ويشترط أن تكون المرأة مشتهاة، كذا في التبيين. والفتوى على أن بنت تسع محل الشهوة لا ما دونها، كذا في معراج الدراية.

وقال الفقيه أبو الليث ما دون التسع سنين لا تكون مشتهاة وعليه الفتوى، كذا في فتاوى قاضي خان. وحكي عن الشيخ الإمام أبي بكر - رحمه الله تعالى - أنه كان يقول: ينبغي للمفتي أن يفتي في السبع والثمان أنه لا تحرم إلا إن بالغ السائل أنها عبلة ضخمة جسيمة فحينئذ يفتي بالحرمة، كذا في الذخيرة والمضمرات فلو جامع صغيرة لا تشتهى لا تثبت الحرمة، كذا في البحر الرائق. (الفتاوى الهندية، كتاب النكاح، الباب الثالث في بيان المحرمات، القسم الثاني المحرمات بالصهرية، ج:1، ص:275)

‌بنت ‌خمس ‌لا ‌تكون ‌مشتهاة اتفاقا وبنت تسع فصاعدا مشتهاة اتفاقا وفيما بين الخمس والتسع اختلاف الرواية والمشايخ والأصح أنها لا تثبت الحرمة. اهـ. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ج:3، ص:37)


فتویٰ نمبر : 7247/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں