بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

وقف کی ہوئی زمین میں تصرف کرنے سے پہلے رجوع کرنا


سوال

اگر کسی نے زمین مسجد کے لئے وقف کی اور اس کے کاغذات وغیرہ بھی اہل محلہ کو حوالہ کیے  لیکن محلہ والوں نے ابھی تک اس میں کوئی تصرف وغیرہ نہ کیاتو کیا واقف واپس سے رجوع کرسکتا ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ وقف تام ہونے کے لئے شرط یہ ہے کہ موقوفہ چیز جس مقصد کے لئے وقف کی گئی ہو اس مقصد میں کم ازکم ایک مرتبہ استعمال ہوجائے بصورت دیگر وقف تام نہیں ہوتا ۔

صورت مسؤلہ میں جب موقوفہ زمین میں ایک مرتبہ بھی با جماعت نماز نہ پڑھی گئی ہو تو واقف کے لئے شرعا رجوع کی گنجائش ہے۔

 

وإن ‌جعل ‌أرضا ‌له ‌مسجدا ‌لعامة ‌المسلمين وبناها وأذن للناس بالصلاة فيها وأبانها من ملكه فأذن فيه المؤذن وصلى الناس جماعة صلاة واحدة، أو أكثر لم يكن له أن يرجع فيه، وإن مات لم يكن ميراثا... وعند محمد لا يصير مسجدا ما لم يصل الناس فيه بالجماعة.(المبسوط للسرخسي، كتاب الوقف، ج:12، ص:34)

من ‌بنى ‌مسجدا ‌لم ‌يزل ‌ملكه ‌عنه حتى يفرزه عن ملكه بطريقة ويأذن بالصلاة أما الإفراز فلا؛ لأنه لا يخلص لله تعالى إلا به...وأما ‌الصلاة ‌فلأنه ‌لا ‌بد من التسليم عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى، هكذا في البحر الرائق التسليم في المسجد أن تصلي فيه جماعة بإذنه وعن أبي حنيفة رحمه الله تعالى فيه روايتان في رواية الحسن عنه يشترط أداء الصلاة فيه بالجماعة بإذنه اثنان فصاعدا، كما قال محمد رحمه الله تعالى رواية الحسن، كذا في فتاوى قاضي خان.(الفتاوی الهندية، كتاب الوقف، الباب الحادي العشر، ج:2، ص:408)


فتویٰ نمبر : 6411/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں