بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

AI پر بنائے گئے خطبے کو جمعہ میں پڑھنا


سوال

ایک خطیب صاحب  نے وقت کی بچت کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) سے جمعے کا خطبہ تیار کروایا اور اسے معمولی ترمیم کے ساتھ منبر پر پڑھ دیا۔کیا ایسا خطبہ دینا شرعاً درست ہے؟ اور کیا اس سے جمعے کا واجب  ادا ہو جائے گا؟ اگر AI میں غیرمستند عبارت یا غلطی ہو تو ذمہ دار کون ہوگا؟

جواب

جمعہ کی شرائط میں سے ایک شرط جمعہ سے پہلے خطبہ دینا ہے ، جمعے کا خطبہ ایسے الفاظ پر مشتمل ہونا چاہیے جس میں اللہ کی ثنا ، حضورﷺ پر درود اور مسلمانوں کے لیے دعا  ہو، خطبہ  قرآن ،حدیث اور مستند عبارات  سے دینا چاہیے ،غیر مستند باتوں  سے خطبہ میں گریز کرنا چاہیے ۔

جہاں تک  AIسے خطبہ تیار کروانے کا تعلق ہے ،تو عموما AI  وہ عبارات پیش کرتا ہے جو کسی ویب سائٹ پر موجود ہوتے ہیں  ،البتہ  کبھی اپنی طرف سے بھی عبارات بنا  لیتا ہے ،بہر حال اگرAI سے بنائے گئے   خطبے  کے الفاظ  معنی کے اعتبار سے درست ہو ں ، تو اس سے خطبہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ،اور اگر الفاظ میں معنی کے اعتبار سے غلطی ہو،تو اس بے احتیاطی  کی وجہ سے خطیب  گناہگار ہوگا ، تا ہم حمد و صلاۃ اور ذکر و دعا پر مشتمل خطبہ سے واجب بہر حال ادا ہوجاتا ہے اور نماز درست ہوجاتی ہے ۔ 

 

 قال رحمه الله (والخطبة قبلها) أي الخطبة قبل صلاة الجمعة من شروط أدائها؛ لأنه عليه الصلاة والسلام لم يصلها بدونها فكانت شرطا إذ الأصل هو الظهر وسقوطه بالجمعة خلاف الأصل وما ثبت على خلاف القياس يراعى فيه جميع ما ورد به النص.(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق،كتاب الصلاة،باب صلاة الجمعة ،ج:1، ص:219)

قال رحمه الله (وكفت تحميدة أو تهليلة أو تسبيحة) لإطلاق قوله تعالى {فاسعوا إلى ذكر الله} [الجمعة: 9] وعن عثمان رضي الله عنه أنه قال الحمد لله فارتج عليه فنزل وصلى بمحضر من الصحابة وقال أبو يوسف ومحمد لا بد من ذكر طويل يسمى خطبة، وأقله قدر التشهد إلى قوله عبده ورسوله يثني بها على الله تعالى ويصلي على النبي صلى الله عليه وسلم ويدعو للمسلمين؛ لأن الخطبة هي الواجبة، وما دون ذلك لا يسمى خطبة عرفا.( تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق،كتاب الصلاة،باب صلاة الجمعة ،ج:1، ص:220)


فتویٰ نمبر : 10683/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں