بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسبوق کا مکبربننا


سوال

کیا مسبوق پیچھے کھڑے نما زیوں کے لیے بلند آواز سے تکبیر انتقال کہہ سکتا ہے یا نہیں؟ اگرکہہ سکتا ہے تو امام کے ’’السلام علیکم ‘‘ پرمسبوق کیا کہے گا ؟

جواب

واضح رہے کہ اگر امام کو مکبر کی ضرورت ہو تو ایسی صورت میں بہتریہ ہے کہ جوابتداے نماز سے اس کے ساتھ شریک ہووہ مکبر بنے، تاہم اگر مسبوق مکبر بن جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے کیونکہ دراصل یہ مکبر کی اقتدا نہیں بلکہ امام ہی کی اقتدا ہے ،مکبر صرف امام کی آواز کو پہنچانے والا ہے، البتہ سلام میں امام کی آواز کو منتقل نہ کرے کیونکہ اگرعمداً مسبوق سلام پھیرے تو اس کی نماز باطل ہوجاتی ہے، اس لیےامام کے سلام پھیرنے کے بعددوسرے مسبوقین کی طرح بغیرسلام کہے اپنی باقی نمازکو مکمل کرے ۔

 

 اقتداء الناس بالنبي - صلى الله عليه وسلم - في مرض موته وهو قاعد وهم قيام وهو آخر أحواله فتعين العمل به بناء على أنه عليه الصلاة والسلام كان إماما وأبو بكر مبلغا للناس تكبيره وبه استدل على جواز رفع المؤذنين أصواتهم في الجمعة والعيدين وغيرهما. (البحر الرائق، باب الامامة، ج:1، ص637)

ولو قدم مسبوقا جاز والأولى للإمام المحدث أن يستخلف مدركا لا مسبوقا؛ لأنه أقدر على إتمام الصلاة وقد قال صلى الله عليه وسلم : "من قلد إنسانا عملا وفي رعيته من هو أولى منه فقد خان الله ورسوله وجماعة المؤمنين" ومع هذا لو قدم المسبوق جاز. (بدائع الصنائع، كتاب الصلوة، ج2، ص109)

(قوله ولو سلم ساهيا) قيد به لأنه لو سلم مع الإمام على ظن أنه  عليه السلام معه فهو سلام عمد فتفسد كما في البحر عن الظهيرية.  (رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الصلوة، باب الاستخلاف، ج:2، ص:350)


فتویٰ نمبر : 10679/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں