بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عورتوں کا عصری تعلیم حاصل کرنا


سوال

عورتوں کو عصری تعلیم دینا شرعا جائز ہے یانہیں؟ٓ

جواب

واضح رہے کہ عورت پر بقدر ضرورت دین کی اتنی تعلیم حاصل کرنا فرض ہے جس سے دین  کی بنیادی باتیں معلوم ہو جائیں،خواہ ان باتوں کا تعلق اعتقادیات سے ہویاعبادات سے ہویامعاملات سے ہویا معاشرت سے، اس سے زائد علم دین حاصل کرنا فی نفسہ جائز ہے،تاہم عورت پر لازم نہیں۔اسی طرح دنیاوی علم حاصل کرنا بھی فی نفسہ عورت کے لئے جائز ہے،بشرطیکہ چند شرائط کا لحاظ رکھا جائے:  

1۔خواتین کی تعلیم گاہیں اور سکول وکالج صرف اورصرف خواتین کے لئے مخصوص ہوں، مخلوط تعلیم نہ ہو اورمردوں کاان تعلیم گاہوں میں آنا جانا نہ ہو۔

2۔ان تعلیم گاہوں تک خواتین کے آنے جانے کاپردہ کے ساتھ ایسا محفوظ انتظام ہو کہ کسی مرحلہ پر بھی فتنہ کا کوئی اندیشہ نہ ہو۔

 3۔تعلیم وتربیت کے لئے با کرداراورپاک دامن خواتین استانیاں ہوں اور اگرایسی معلمات نہ مل سکیں، تو درجہ مجبوری میں نیک وصالح اور قابل اعتماد مردوں کو متعین کیا جائے جوپردہ کے آڑ میں رہ کرخواتین کو تعلیم دیں۔

4۔ خواتین ایسےمضامین کی عصری تعلیم حاصل کرے،جن میں مہارت حاصل کر کےوہ شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئےامت کی خدمت کر سکے،جیسے شعبہ طب یا تعلیم و تربیت وغیرہ۔

 

عن أبي سعيد الخدري قالت النساء للنبي صلى الله عليه وسلم: غلبنا عليك الرجال، فاجعل لنا يوما من نفسك، فوعدهن يوما لقيهن فيه، فوعظهن وأمرهن. (صحيح البخاري،  باب:هل يجعل للنساءيوماعلى حدة في العلم؟، ج:1، ص:32)

عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: طلب العلم فريضة على كل مسلم.  (سنن ابن ماجه، باب فضل العلماء، ج:1، ص:81)

عن أنس بن مالك قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم - طلب العلم فريضة على كل مسلم وهذا عندنا ينصرف على معنيين أحدهما طلب العلم فيما يبتلى به الإنسان من أمور دينه فعليه أن يتعلمه مثل من لا يعرف حدود الصلاة وفروضها وحضور وقتها فعليه أن يتعلمها ومثل من ملك مائتي درهم فعليه أن يتعلم ما يجب عليه فيها وكذلك الصوم والحج وسائر الفروض والمعنى الآخر أنه فرض على كل مسلم إلا أنه على الكفاية إذا قام به بعضهم سقط عن الباقين. (أحكام القران للجصاص، ج:4، ص:373) 

طلب العلم فريضة بقدر الشرائع وما يحتاج إليه لأمرلابدمنه من أحكام الوضوءوالصلاة وسائر الشرائع ولأمور معاشه وما وراء ذالك ليس بفرض فإن تعلمها فهو أفضل وإن تركها فلا إثم عليه كذا في السراجية. (الفتاوى الهندية، ج:5، ص:377)


فتویٰ نمبر : 6406/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں